جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

کس کے پاس ہے تو قدر نہیں اور کوئی بھوک کے ہاتھوں موت کو گلے لگارہاہے،10کروڑ افراد فاقہ کشی کا شکار،لرزہ خیزانکشافات

datetime 1  اپریل‬‮  2017 |

روم(آئی این پی)اقوام متحدہ اور یورپی یونین کے اشتراک سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دنیا بھر میں بھوک اور غربت میں غیرمعمولی اضافہ ہواہے اور گذشتہ برس 10 کروڑ سے زاید افراد فاقہ کشی کا شکار ہوچکے ہیں۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق گزشتہ روز جاری کی گئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ خانہ جنگی، ماحولیاتی مسائل اور غذائی اجناس کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافے کے باعث فاقہ کشی میں اضافہ ہوا۔

گذشتہ برس کے آخر میں 108 ملین افراد فاقہ کشی کا شکار ہیں۔یہ تعداد سال 2015 کے اعدادو شمارکی نسبت 35 فی صد زیادہ ہیں۔ دو ہزار پندرہ میں 80 ملین افراد بھوک کا شکار تھے۔رپورٹ میں ماہرین کا کہنا ہیکہ غذائی عدم تحفظ انسانی بقا کے لیے خطرہ ہے۔ غذاں کی قلت میں مسلسل اضافے اور لوگوں کی پہنچ سے دور ہونے کے نتیجے میں بھوک اور فاقہ کشی میں اضافہ ہوا ہے۔ ماحولیاتی مسائل، قحط، خشک سالی اور دیگر قدرتی آفات کے باعث لوگ اپنے مال مویشی ذبح کرنے پر مجبور ہیں۔خشک سالی اور خوراک کی قلت کے اعبتار سے افریقی خطہ پوری دنیا میں سرفہرست ہے۔ جنوبی سوڈان، صومالیہ، یمن اور شمال مشرقی نائیجیریا بھوک و افلاس کی وجہ سے سر فہرست ہیں۔دنیا بھرمیں بھوک اور فاقہ کشی کے اعدادو شمار جمع کرنے میں اقوام متحدہ کے ادارے یو ایس ایڈ کو یورپی یونین اور بعض دوسرے اداروں کا تعاون بھی حاصل رہا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2017 میں بھی بھوک اور افلاس کا موجب بننے والے 9 بڑے بحران موجود ہیں۔ ان میں مختلف ملکوں میں جاری خانہ جنگی، موسمی حالات، اچانک بارشیں، خشک سالی اور نینو طوفان جیسے مظاہر بھوک کا باعث بنیں گے۔عراق اور شام میں جاری خانہ جنگی، پڑوسی ملکوں میں ھجرت کرنے والے پناہ گزینوں، مالاوی اور زیمبابوے میں خوراک کا عدم تحفظ فاقہ کشی میں اضافہ کرے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…