جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

’’بھارتیوں کوواہگہ بارڈر پر عجیب و غریب مشکل کا سامنا‘‘

datetime 31  مارچ‬‮  2017 |

نئی دہلی(این این آئی)بھارت اور پاکستان کی واہگہ اٹاری سرحد پر گذشتہ تین روز سے انڈیا کا پرچم نہیں لہرایا گیا جس کی وجہ سے بھارتی حکام کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔بھارتی میڈیا کے مطابق تین روز سے بین الاقوامی سرحدی چوکی پر پرچم نہ لہرائے جانے کی وجہ وہ 360 فٹ اونچا وہ پول ہے جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ حکام نے سرحد پر بلند ترین پول نصب کرنے سے قبل تکنیکی رپورٹ نہیں بنوائی تھی۔اطلاعات کے مطابق 360 فٹ لمبے پول پر گذشتہ

تین روز سے بھارت کا پرچم نہیں لہرایا گیا۔ اس کی وجہ کسی کو معلوم نہیں۔ تاہم امرتسر امروومنٹ ٹرسٹ (اے آئی ٹی) نے حکومت سے اس معاملے کی تحقیقات کی درخواست کی ہے۔سرحد پر سب سے بلند ترین پرچم لہرانے کے لیے پول کے افتتاح کو ایک ماہ بھی نہیں ہوا ہے اور اس پول پر سوا لاکھ انڈین روپے کے تین پرچم تبدیل کیے جا چکے ہیں کیونکہ تیز ہواؤں کی وجہ سے پرچم پھٹ جاتے ہیں اور کئی وجوہات کی وجہ سے چوتھی بار ابھی تک نیا پرچم نہیں لگایا گیا۔اے آئی ٹی کے چیئرمین سریش مہاجن نے بتایا کہ اس پول کو نصب کرنے سے قبل متعلقہ حکام سے تکنیکی رپورٹ نہیں مانگی گئی اور اس پول کو جلد بازی میں نصب کیا گیا۔انھوں نے اس کو مجرمانہ فعل قرار دیتے ہوئے کہاکہ قومی پرچم ہمارا وقار ہے اور میں حکومت سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اس معاملے کی تحقیقات کرے اور ذمہ داران کو سزا دے۔انھوں نے مزید بتایا کہ تین پرچم تبدیل کیے جا چکے ہیں اور اب کوشش کی جا رہی ہے کہ پرچم کی کوالٹی کو بہتر بنایا جائے تاکہ یہ پھٹے نہ یا پھر تکنیکی رپورٹ طلب کی جائے تاکہ تیز ہواؤں کے باعث پرچم پھنٹے کے واقعات نہ ہوں۔سماجی کارکن مندیپ سنگھ منا نے دعویٰ کیا کہ اس ‘سرحد پر بلند ترین پرچم’ کے پراجیکٹ میں مالی بے ضابطگیاں ہوئی ہیں اور انھوں نے بھی اس بارے میں تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…