جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

مسلمانوں کی دوسری شادی پر پابندی ،بھارت میں ہندوؤں نے نیا تنازعہ کھڑا کردیا

datetime 26  مارچ‬‮  2017 |

احمدآباد(آئی این پی)بھارت کی ہندو انتہا پسند جماعت وشواہندو پریشد کے صدر پروین توگڑیا نے ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا ہے کہ صرف اجودھیا ہی نہیں پورے بھارت میں کسی جگہ بھی مسلمان حکمران ظہیر الدین بابر کے نام پرکوئی مسجد تعمیر نہیں ہونی چاہئے،بابری مسجد کی جگہ مندر بنانے کا واحد راستہ پارلیمنٹ میں قانون سازی ہے ،مسلمانوں کی دوسری شادی پر بھی بھارت میں پابندی ہونی چاہئے ،4شادیوں سے مسلمانوں کی

تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے ،حکومت فوری پابندی لگائے۔بھارتی میڈیا کے مطابق وشوہندو پریشد کے صدر پروین توگڑیا نے احمد آباد میں وی ایچ پی اور بجرنگ دل کے مشترکہ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مودی حکومت کان کھول کر سن لے، صرف اجودھیا ہی نہیں پورے بھارت میں کسی جگہ بھی مسلمان حکمران ظہیر الدین بابر کے نام پرکوئی مسجد تعمیر نہیں ہونی چاہئے، سردار پٹیل نے سومناتھ مندر کی تعمیر کے لئے مسلمانوں کی داڑھی نہیں پکڑی تھی اور نہ ہی کسی ٹوپی والے کو گلے لگایا تھا،نہ ہی کسی ٹوپی والے کو گلے لگایا تھا، اس وقت کی مرکزی حکومت کی رضامندی سے ڈنکے کی چوٹ پر مندر کی تعمیر ہوگئی تھی،اب بھی رام مندر کی تعمیر کے لئے مودی حکومت کو ایسا ہی کرنا چاہئے اور پارلیمنٹ میں قانون کے ذریعے مندر بناناہی واحد راستہ ہے، اگر ایسا نہیں ہوا تو پورے ہندوستان سے لوگ اجودھیا آ کر خود رام مندر تعمیر کریں گے ۔انہوں نے اپنی تقریر میں مودی حکومت سے مطالبہ کیا کہ مسلمانوں کو 4شادیوں اور25بچے پیدا کرنے کی اجازت دینے سے بھارت میں مسلمانوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے ،ہندوں کے جمع کئے ہوئے ٹیکس مسلمانوں پر خرچ ہو رہے ہیں ،اس لئے مسلمانوں کی دوسری شادی اور 2سے زیادہ بچے پیدا کرنے پر بھی پابندی ہونی چاہئے ۔انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں دوبارہ سے ہندو پنڈتوں کو آباد کیا جائے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…