منگل‬‮ ، 20 جنوری‬‮ 2026 

آپریشن اسامہ، حسین حقانی نے زبان کھول دی،پاکستانی عوام کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگادیاگیا،سنگین دعوے کردیئے

datetime 19  مارچ‬‮  2017 |

واشنگٹن(آئی این پی)امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی نے کہا ہے کہ میرا آرٹیکل پاکستان کے تناظر میں نہیں تھا ،پاکستان میں غلط تاثر پھیلایا جا رہا ہے ،اسامہ بن لادن تک امریکی سہولت کاری کا کریڈیٹ لینے کا غلط تاثر لیا جا رہا ہے ،اسامہ بن لادن ویزے سے پاکستان آیا اور نہ ہی اسامہ کو ہلاک کرنے والے امریکی ویزوں سے پاکستان میں داخل ہوئے ، عسکری ناکامی کو سیاسی ناکامی ثابت کرنے کی کوشش ہورہی

ہے ۔وہ اتوار کو نجی ٹی وی کو انٹرویو دے رہے تھے ۔انہوں نے کہا کہ ویزے کی بنیاد پر اسامہ بن لادن پاکستان نہیں آیا تھا ،پاکستانی عوام کو ویزوں کی ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دیا گیا ،ہر جاسوس بتا کر نہیں آتا کہ میں جاسوس ہوں ،میں نے کسی امریکی کو ویزہ متعلقہ اداروں کے نمائندوں کی تصدیق کے بغیر جاری نہیں کیا تھا ۔حسین حقانی نے کہا کہ پاکستان میں امدادی پیکج کے دوران سی آئی اے اہلکار آئے ،امدادی پیکج پر عمل درآمد کیلئے امریکیوں کو پاکستان آنے کی ضرورت تھی ۔انہوں نے کہا کہ عسکری ناکامی کو سیاسی ناکامی ثابت کرنے کی کوشش ہورہی ہے ،پاکستان میں اہم ایشوز پر کسی نہ کسی کو قربانی کا بکرا بنا کر معاملہ ادھر ادھر کر دیا جاتا ہے ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بے نظیر بھٹو کی کردار کشی میں نے نہیں ان لوگوں نے کی جنہوں نے آئی جے آئی بنائی تھی ،جان بوجھ کر کسی پاکستانی نے اداروں کو بائی پاس کر کے امریکیوں کو سہولت کاری فراہم نہیں کی ،دلیل کو جواب دلیل سے دیا جائے اور ذاتی بحث کے بجائے میرے بیانیے پر غور کیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ میرا آرٹیکل پاکستان کے تناظر میں نہیں تھا ،پاکستان میں غلط تاثر پھیلایا جا رہا ہے ،اسامہ بن لادن تک امریکی سہولت کاری کا کریڈیٹ لینے کا غلط تاثر لیا جا رہا ہے ،اسامہ بن لادن ویزے سے پاکستان آیا اور نہ ہی اسامہ کو ہلاک کرنے والے امریکی ویزوں سے پاکستان میں داخل ہوئے تھے ۔ چندسو سے چند ہزار تک امریکی پاکستان آئے مگر ان میں جاسوس کتنے تھے یہ علم نہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تہران میں کیا دیکھا


ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…