منگل‬‮ ، 20 جنوری‬‮ 2026 

یورپ ترکوں کے ہاتھوں اپنی شکست کو نہیں بھولا،چناق قلعے میں تاریخ رقم ہوئی،ترک صدر نے کھری کھری سنادیں

datetime 19  مارچ‬‮  2017 |

انقرہ (آئی این پی)ترک صدر رجب طیب اردگان نے کہا ہے کہ توقع ہے کہ ملکی پارلیمان سزائے موت پر عملدرآمد کو بحال کرنے کے منصوبے کی حمایت کرے گی،بہت اچھی طرح جانتے ہیں کہ صدارتی نظام، سیاست سے اقتصادیات تک، ڈپلومیسی سے سرمایہ کاریوں تک ہر شعبے میں ایک نئی فتح چناق قلعے کا راستہ ہموار کرے گا،یورپ چناق قلعے کی شکست کو نہیں بھولا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق ترکی کے

صدر رجب طیب اردگان نے یومِ شہدا اور فتح چناق قلعے کی 102 ویں سالانہ یاد کے موقع پر اپنے خطاب میں کہا کہ جمہوریہ ترکی ہماری پہلی نہیں آخری حکومت ہے نتیجتا عثمانی بھی ہمارے ہیں، سلجوقی بھی ہمارے۔ ہماری ہزاروں سالہ تاریخ میں گزرے ہوئے تمام ادوار ہمارے ہیں۔صدر اردگان نے کہا کہ میں چناق قلعے سے اپنی مسلح افواج کا، پولیس کا اور اپنے محافظین کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ ہماری مسلح افواج، پولیس اور محافظین ملک میں خندقیں کھودنے والوں کو گھڑے کھودنے والوں کواس وقت جودی پہاڑوں میں، تندورک میں اور بست دیرے میں انہی کے کھودے ہوئے گڑھوں اور خندقوں میں دفن کر رہے ہیں۔ہالینڈ کے اسکینڈل رویے کے بارے میں بات کرتے ہوئے ۔ترک صدر نے کہا کہ ہالینڈ کی انتظامیہ میرے وزیر خارجہ کی پرواز کو منسوخ کر رہی ہے۔ میری خاتون وزیر کے ہالینڈ میں داخلے کو بین کر رہی ہے۔ گھوڑو ں اور کتوں کے ساتھ وہاں مقیم میرے شہریوں کے اوپر چڑھائی کر رہی ہے۔ جرمن چانسلر بھی ان کی حمایت کر رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ یہ سب ایک ہیں ان کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔ لیکن میں کہتا ہوں کہ آپ جو چاہے کر لیں اس ملت کو اس کے راستے سے نہیں ہٹا سکیں گے۔16 اپریل کو میری ملت مغرب کے اس غلط رویے کا جواب بیلٹ بکسوں پر بہترین اور جمہوری شکل میں دے گی۔صدر اردگان نے کہا کہ ہم اپنے

قونصل خانے میں داخل نہیں ہو سکے۔ اس چیز کی بین الاقوامی قانون میں کوئی جگہ نہیں ہے آپ کسی وزیر پر دروازے بند نہیں کر سکتے۔انہوں نے کہا کہ اگر آپ اس رویے پر قائم رہیں گے تو ترکی سے بھی اس کا جواب پائیں گے۔ ترکی میں کروائے جانے والے ریفرینڈم سے آپ کو کیا؟ لیکن اصل میں حقیقت یہ نہیں ہے، انہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ اس تبدیلی کا کیا مفہوم ہے۔ ایک صدی قبل “یورپ کا مردِ بیمار ” کہہ کر وہ جن

ترکوں کی تعزیت کے لئے آئے تھے ان ترکوں نے انہیں چناق قلعے میں بدترین شکست سے دوچار کیا اور وہ اس شکست کو بھولے نہیں ہیں۔صدر رجب طیب اردگان نے کہا کہ وہ بہت اچھی طرح جانتے ہیں کہ صدارتی نظام، سیاست سے اقتصادیات تک، ڈپلومیسی سے سرمایہ کاریوں تک ہر شعبے میں ایک نئی فتح چناق قلعے کا راستہ ہموار کرے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تہران میں کیا دیکھا


ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…