منگل‬‮ ، 07 اپریل‬‮ 2026 

رمضان پر یہ کام ہوتا ہے ، دیوالی پر کیوں نہیں ہوتا ؟؟ مودی نے شکوہ کر دیا

datetime 21  فروری‬‮  2017 |

نئی دہلی(این این آئی)بھارتی ریاست اترپردیش میں اسمبلی انتخابات کے تیسرے مرحلے میں 69 نششتوں کے لیے ووٹ ڈالے گئے جبکہ مزید چارمرحلوں میں ووٹنگ ہونا باقی ہے جبکہ ووٹوں کی گنتی 11مارچ کو ہوگی،ادھر بھارتی وزیراعظم نریندرامودی نے حکمراں سماج وادی پارٹی پر ذات اور مذہب کے نام پر تفریق کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہاہے کہ اس طرح کی سیاست سے ہر کوئی متاثر ہو رہا ہے، رمضان میں بجلی آتی ہے تو دیوالی میں بھی آنی چاہیے۔ امتیازی سلوک نہیں ہونا چاہیے۔ اگر قبرستان ہے تو

 

شمشان گھاٹ بھی ہونا چاہیے،جس پر دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے بھی جواب دیتے ہوئے کہاہے کہ مودی جی کا یہ بیان ظاہر کرتا ہے کی بی جے پی یوپی میں بری طرح ہاررہی ہے،بھارتی ٹی وی کے مطابق بھارت میں آبادی کے لحاظ سب سے بڑی ریاست اترپردیش میں اسمبلی انتخابات کے تیسرے مرحلے میں 69 نششتوں کے لیے ووٹ ڈالے گئے جس میں 62 فیصد رائے دہندگان نے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا۔گذشتہ انتخابات کے مقابلے میں اس بار اس علاقے میں دو فیصد لوگوں نے زیادہ ووٹ ڈالے ۔ ریاست کے 12 اضلاع کی 69 سیٹوں پر انتخاب ہوا جہاں تقریبا ڈھائی کروڑ ووٹر بستے ہیں۔یوپی میں اس بار مجموعی طور پر سات مرحلوں میں انتخابات کروائے جارہے ہیں جن میں سے تین مکمل ہوگئے ہیں، ووٹوں کی گنتی 11 مارچ کو ہوگی۔ریاست میں حکمراں سماجودی پارٹی ور کانگریس کے اتحاد، بی جے پی اور مایا وتی کی جماعت بہوجن سمارج پارٹی کے درمیان سہ رخی مقابلہ ہے۔اس دوران جن حلقوں میں ابھی انتخابات ہونے ہیں وہاں سبھی جاعتوں کی جانب سے زبردست انتخابی مہم چلائی جا رہی ہیں۔ بی جے پی کی انتخابی مہم کی باگ ڈور خود وزیر اعظم نریندر مودی نے سنبھال رکھی ہے اور وہ ہر روز کئی انتخابی ریلیوں میں شرکت کر رہے ہیں،گزشتہ روز نریندر مودی نے اتر پردیش کے فتح پور میں ایک انتخابی ریلی میں حکمراں سماج وادی پارٹی

 

پر ذات اور مذہب کے نام پر تفریق کرنے کا الزام لگایا۔ انھوں نے کہا کہ اس طرح کی سیاست سے ہر کوئی متاثر ہو رہا ہے۔انھوں نے کہاکہ رمضان میں بجلی آتی ہے تو دیوالی میں بھی آنی چاہیے۔ امتیازی سلوک نہیں ہونا چاہیے۔ اگر قبرستان ہے تو شمشان گھاٹ بھی ہونا چاہیے۔ عید اور ہولی دونوں کے موقع پر بجلی آنی چاہیے۔ کسی بھی صورت میں امتیازی سلوک نہیں ہونا چاہیے۔مودی نے اکھلیش یادو کے نعرے کام بولتا ہے پر بھی یہ

 

کہہ کر نکتہ چینی کی کہ ریاست میں مذہب کے نام پر امتیازی سلوک سب سے بڑا مسئلہ ہے۔وزیر اعظم نریندر مودی کے اس بیان پر دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے ٹویٹ کیا۔ انھوں نے کہاکہ مودی جی کا یہ بیان ظاہر کرتا ہے کی بی جے پی یوپی میں بری طرح ہار رہی ہے اور مودی جی بہت نروس ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)


جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…