بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

عرب شہزادوں کی عیاشی منظر عام پر آگئی،غریب مسلم ممالک پر سکتہ طاری

datetime 3  فروری‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)عقابوں کے ہوائی جہاز پر سفر کی تصاویرپر ابھی دنیا انگلی دانتوں تلے دابے بیٹھی تھی کہ عقابوں کے میڈیکل اخراجات پر حیران کن اصراف کی تفاصیل نے مسلم ممالک اور ان میں بسنے والے عوام کو سکتے اور ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ دنوں ایک عرب شیخ کے 80عقابوں کے لگژری انداز میں ہوائی جہاز میں سفر کرنے کی تصاویر سامنے آئیں تو ایک ہنگامہ برپا ہو گیا۔

اب ان عقابوں کی لگژری زندگی کی ایک اور ایسی تصویر سامنےآئی ہےکہ عجم تو کیا عرب ممالک کے عوام بھی سکتے میں آگئے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق ابو ظہبی میں 1999میں عقابوں کے لئے ایک ہسپتال قائم کیا گیا جس میں عقابوں کو علاج کیلئے دنیا کی جدید ترین مشینری میسر ہے۔ اس ہسپتال میں عقابوں کو علاج کی جو سہولیات دستیاب ہیں وہ دنیا کے اربوں انسانوں کو نہیں ۔ یہ ہسپتال دنیا میں اپنی نوعیت کا سب سے بڑا اور جدید ہسپتال ہے جہاں تمام عرب ممالک سے عقابوں کو علاج کے لیے لایا جاتا ہے۔رپورٹ کے مطابق ان عقابوں کو لگژری کاروں میں اس ہسپتال میں لایا جاتا ہے جہاں ایک عقاب کے علاج پر اوسطاً 8ہزار پاؤنڈ (تقریباً ساڑھے 10لاکھ روپے) خرچ آتا ہے۔ اس ہسپتال میں سالانہ اوسطاً 11ہزار 200عقابوں کا علاج کیا جاتا ہے۔ان عقابوں کی قیمت بھی حیران کن حد تک زیادہ ہوتی ہے۔ اچھی نسل کے عقاب کی قیمت 10لاکھ پاؤنڈ(تقریباً 13کروڑ 26لاکھ روپے) تک ہوتی ہے۔ عرب دنیا میں عقاب پالنا ثقافت کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ مشرق وسطیٰ کی اکثر ایئرلائنز نے عقابوں کے سفر کے لیے قانون وضع کر رکھے ہیں اور ان کے ٹکٹ کی قیمتیں بھی مخصوص کر رکھی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…