پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

ملک بھر میں رواں سال کے آغاز سے سولر پینلز کی قیمتوں میں یکدم بڑا اضافہ

datetime 17  جنوری‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)نئے سال کے آغاز کے ساتھ ہی ملک بھر میں سولر پینلز کی قیمتوں میں اچانک نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جس سے صارفین اور تاجر دونوں متاثر ہو رہے ہیں۔ایکسپریس نیوز کے مطابق مقامی مارکیٹوں میں درآمد شدہ چینی سولر پینلز، خاص طور پر 585، 645 اور 720 واٹ کیٹیگری میں، اوسطاً پانچ ہزار روپے تک مہنگے ہو چکے ہیں۔ قیمتوں میں اضافے کے بعد 585 واٹ کا سولر پینل جو پہلے 16 سے 17 ہزار روپے میں دستیاب تھا، اب 20 ہزار سے 21 ہزار روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔اسی طرح 645 واٹ کے سولر پینلز کی قیمت میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو پہلے تقریباً 20 ہزار روپے تھی اور اب بڑھ کر 24 سے 25 ہزار روپے تک جا پہنچی ہے۔

جبکہ 720 واٹ کے سولر پینلز، جن کی قیمتیں پہلے 22 سے 25 ہزار روپے کے درمیان تھیں، اب 30 ہزار سے 35 ہزار روپے کی حد تک پہنچ گئی ہیں۔سولر پینلز کے امپورٹر اور کراچی الیکٹرانکس ڈیلرز ایسوسی ایشن کے نائب صدر سلیم میمن نے ایکسپریس سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ عالمی منڈی میں چاندی اور تانبے کی قیمتوں میں اضافے کے باعث چینی سولر کمپنیوں کی پیداواری لاگت بڑھ گئی ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ پانچ ماہ کے دوران فی واٹ سولر پینل کی قیمت 22 روپے سے بڑھ کر 33 روپے تک پہنچ چکی ہے۔سلیم میمن کا کہنا تھا کہ عوامی سطح پر بڑھتی ہوئی طلب اور چین میں قیمتوں میں اضافے کے اثرات کے باعث آئندہ چند ماہ میں سولر پینل کی فی واٹ قیمت 40 روپے تک جانے کا امکان ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ چینی سولر پینلز کی درآمد پر عائد مختلف ٹیکسز بھی قیمتوں میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں، جبکہ مقامی سطح پر سولر ٹیکنالوجی میں محدود مسابقت بھی مہنگائی کو بڑھا رہی ہے۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ گزشتہ دو برسوں میں بڑی تعداد میں درآمدات کے باعث ملک میں سولر پینلز کا خاصا ذخیرہ موجود ہے، تاہم اس کے باوجود قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔ صرف سولر پینلز ہی نہیں بلکہ ان میں استعمال ہونے والی بیٹریاں بھی مہنگی ہو چکی ہیں، اور گزشتہ ایک ماہ کے دوران سولر بیٹریوں کی قیمتوں میں تقریباً 10 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…