اتوار‬‮ ، 07 جون‬‮ 2026 

ایران کی سرحد کے قریب خلیج میں چار بڑے ممالک نے ایران پر حملے کیلئے اپنے ہتھیار آزمانا شروع کردیئے،تشویشناک صورتحال

datetime 1  فروری‬‮  2017 |

واشنگٹن /لندن (آئی این پی)امریکا اور اس کے تین اتحادی ممالک نے ایران کی ساحلی پٹی کے نزدیک خلیج میں بدھ کے روز جنگی بحری مشقیں شروع کردیں۔ان جنگی مشقوں میں امریکا کے علاوہ فرانس ،برطانیہ اور آسٹریلیا کی بحری افواج حصہ لے رہی ہیں اور یہ تین روز تک جاری رہیں گی۔ برطانوی بحریہ ان جنگی مشقوں کی قیادت کررہی ہے۔

امریکی بحریہ کے ایک پریس ریلیز کے مطابق ان جنگی مشقوں کا مقصد باہم حربی صلاحیتوں کو بڑھانا اور سمندر میں آزادانہ تجارت اور آمد ورفت کو یقینی بنانے کے لیے شراکت داری کو مضبوط بنانا ہے۔سپوتنک نیوز کے مطابق ان جنگی مشقوں کے دوران میں جنگی بحری جہاز ایچ ایم ایس ڈیرنگ اور ایچ ایم ایس اوشین ،امریکی اور فرانسیسی جنگی بحری جہاز ایران کے جعلی طور پر تیار کردہ لڑاکا جیٹ ، بحری جہازوں اور جعلی میزائل لانچروں کونشانہ بنائیں گے اور تباہ کریں گے۔یہ جنگی مشقیں حال ہی میں امریکا کے جنگی بحری جہازوں اور ایرانی جہازوں کے درمیان بین الاقوامی پانیوں میں ٹاکرے کے بعد ہورہی ہیں۔ پینٹاگان کے مطابق 2016 میں امریکی اور ایرانی بحری جہازوں یا آبدوزوں کے درمیان 35 مرتبہ آمنا سامنا ہوا تھا۔ جنوری کے اوائل میں یو ایس ایس مہان نے پاسداران انقلاب ایران کی چار کشتیوں پر اپنے قریب آنے پر انتباہی فائرنگ کی تھی۔ایرانی بحریہ کے سربراہ رئیر ایڈمرل حبیب اللہ سیاری نے جنگی مشقوں میں شریک جہازوں کو ایران کی آبی حدود میں در آنے پر خبردار کیا ہے لیکن امریکی عہدہ داروں کا کہنا ہے کہ ان کا ایرانی پانیوں میں داخل ہونے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…