ہفتہ‬‮ ، 08 اگست‬‮ 2026 

غریبوں کے لیے ایک وقت کا کھانا مفت، جانتے ہیں ایسا کس ملک کےریسٹورنٹ نے اعلان کیا ؟

datetime 29  جنوری‬‮  2017 |

قاہرہ(این این آئی)مصرمیں ایک مخیر شہری نے دارالحکومت قاہرہ کے جنوبی علاقے الجیزہ میں قائم اپنے ریستوران سے غریب شہریوں کو روزانہ ایک وقت کا کھانا مفت فراہم کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ ان کے انسانی خدمت کے اقدام کو مصر کے عوامی اور سماجی حلقوں کی جانب سے غیرمعمولی پذیرائی حاصل ہوئی ہے اور اہم شخصیات نے اس مشن کو آگے بڑھانے کے لیے ہوٹل کئے مالک کو

 

عطیات دینے کا سلسلہ بھی شروع کیا ہے۔عر ب ٹی وی کے مطابق قاہرہ کے نواحی علاقے میں قائم ہوٹل شام پانچ سے چھ بجے تک وہاں پرآنے والے غریب شہریوں کو سیڈوچ، جگر کا گوشت، قیمہ اور دیگر کھانے مفت فراہم کرتا ہے۔غریبوں کو مفت کھانا فراہم کرنے والے ہوٹل کے مالک محمود حسین نے بتایا کہ عوامی اور سماجی حلقوں کی جانب سے ان کے اقدام کو غیرمعمولی پذیرائی حاصل ہوئی ہے لوگ اس مقصد کے لیے بڑھ چڑھ کر عطیات بھی دینے لگے ہیں۔انہوں بتایا کہ مصری موسیقارہ شیرین عبدالوھاب نے ایک ملین مصری پاؤنڈ کے قریب رقم عطیہ کی ہے۔ امریکی کرنسی میں یہ رقم 13 ہزار ڈالر کے برابر ہے۔ اس کے علاوہ صحافی عمر ادیب اور کئی مصری تاجروں کی طرف سے بھی غریبوں کو مفت کھانا فراہم کرنے پرانہیں عطیات دینے کے اعلانات کیے ہیں۔ایک مصری تاجر نے ایک سال تک ہوٹل کے مالک کو غریبوں کومفت کھانا فراہم کرنے میں مالی تعاون جاری رکھنے کی پیش کش کی ہے۔محمود حسن کا کہناتھاکہ وہ ہوٹل کی ایک دوسری شاخ بھی کھولنا چاہتے ہیں۔ مگر یہ نئی شاخ زیادہ پرھجوم شہرں شبرا، نصر یا الھرم میں کھولی جائے گی اور وہاں بھی وہ غریبوں کو مفت کھانا فراہم کریں گے۔ وہ مفت کھانے کا دورانیہ بھی بڑھا کر دو گھنٹے کرنا چاہتے ہیں۔ایک دوسرے سوال کے جوب میں محمود حسن نے کہا کہ ان کے ہوٹل پر کام کرنے والے تمام افراد تنخواہ پر ملازم نہیں بلکہ وہ ہوٹل کے مالک ہیں اور کل آمدن کے تناسب سے انہیں ادائیگی کی جاتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…