ہفتہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2026 

امریکی حملے سے پہلے صدام حسین نے وہ کونسا ایسا کام کیا جوعراق کی تباہی کا بہانہ بن گیا؟حیرت انگیزانکشافات

datetime 4  جنوری‬‮  2017 |

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک)امریکی سی آئی اے کے ڈائریکٹرجان نکسن نے امریکہ عراق جنگ کے بعد دنیامیں کئی اورخفیہ مشن سرانجام دینے کے بعد 2011میں ریٹائرمنٹ لے لی تھی اوراپنی ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے صدام حسین کے حوالے ایک کتاب ’’ڈی بریفننگ دی پریزیڈنٹ ‘‘لکھی ۔جان نکسن نے اس کتاب میں سابق عراقی صدرکی زندگی کے مختلف پہلوئوں کوسامنے لایا۔ ’’ڈی بریفننگ دی پریزیڈنٹ ‘‘کے حوالے سے ہی جان نکسن نے ایک برطانوی نشریاتی ادارے کوانٹرویودیتے ہوئے بتایاکہ انہوں نے صدام حسین کے بارے میں کتاب اس لئے لکھی کیونکہ دوران تفتیش ہی صدام حسین کے بارے میں تحقیق میری زندگی کامحوربن گئی تھی ۔

جان نکسن نے بتایاکہ سابق عراقی صدرکی ذات تضادات کامجموعہ تھی کیونکہ دوران تفتیش صدام حسین کاجب جی چاہتاتو وہ بہت مسحور کن، شوخ، اور خوش اخلاق ہو جاتےاورکبھی وہ بدتمیز، مغرور اور مطلبی شخص بن جاتےتھے جس کاتفتیش کے دوران میں نے بخوبی مشاہدہ کیا۔انہوں نے بتایاکہ سی آئی اے کے پاس کوئی ایساثبوت نہیں تھاکہ وہ صدام حسین کوبات کرنے پرمجبورکرتی۔جان نکسن نے بتایاکہ دوران تفتیش صدام حسین سے یہ معلوم ہوگیاتھاکہ عراق پرجوہری ہتھیاررکھنے کاالزام لگاکرحملہ کرنےکاجوجوازبنایاگیاتھاوہ غلط تھاکیونکہ دوران تفتیش معلوم ہوگیاکہ صدام حسین اس پروگرام کوامریکی حملے سے پہلے ہی ہمیشہ کےلئے بند کرچکے تھے ۔انہوں نے بتایاکہ دوران تفتیش ہی میں صدام حسین سے اتنے متاثرہواتھاجس کی وجہ سے میں نے کتاب’’ڈی بریفننگ دی پریزیڈنٹ ‘‘لکھی۔جان نکسن نے گفتگوکرتے ہوئے امریکی صدربش پرشدید تنقید کی اورکہاکہ میں کئی مرتبہ صدربش اورصدام حسین سے ہاتھ ملاچکاہوں اوراب بھی مجھے یہ کہاجائے کہ میں ان دونوں میں سے کس سے ہاتھ ملاناپسندکروں گا تومیں صدربش کے بجائےسابق عراقی صدرسے ہی ہاتھ ملائوں گا۔انہوں نے بتایاکہ صدربش ایک خوشامد پسند انسان تھے اورا ن کوحقیقت کا کوئی ادراک نہیں تھاکہ عراق جنگ کے بعد دنیاپراس کے کیا اثرات مرتب ہونگے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مشہد میں دو دن


ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…