جمعہ‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2026 

یہودی لابی کا ابتک کا سب سے بڑا پلان بے نقاب، فلسطینیوں کیساتھ کیا کرنے جارہے ہیں؟

datetime 7  دسمبر‬‮  2016 |

مقبوضہ بیت المقدس (این این آئی)عالمی سطح پر شدید مخالفت اور مذمت کے باوجود اسرائیلی حکومت نے حالیہ ہفتوں کے دوران فلسطینی شہروں بالخصوص مقبوضہ بیت المقدس میں یہودی آباد کاری کے نئے منصوبوں کے اعلانات شروع کردیئے۔عرب ٹی وی کے مطابق حال ہی میں صہیونی حکومت نے مقبوضہ بیت المقدس اور غرب اردن کے جنوبی شہر بیت لحم کے درمیان واقع’گیلو‘‘ یہودی کالونی میں مزید 770 مکانات کی تعمیر پر غور شروع کیا ، یہ کالونی فلسطین میں قائم کردہ دائرے کی شکل کی پانچ یہودی بستیوں میں سے ایک ہے جس میں چار ہزار سے زائد مکانات ہیں۔ گیلو کالونی کے قیام اور اس میں مزید توسیع سے صہیونی ریاست القدس کو غرب اردن کے جنوبی علاقوں سے الگ تھلگ کرنے کی سازش کررہی ہے۔
اگر القدس کے گرد مزید 770 مکانات تعمیر ہوجاتے ہیں تو اس سے القدس کا وہ خوبصورت منظر یکسرتبدیل ہوجائے گا جو جنوب مغرب میں دیر کریمیزان کے آس پاس آج موجود ہے۔یہودی انسانی حقوق گروپ ’عیر عامیم‘ سے وابستہ تجزیہ نگار افیف تاتراسکی کا کہنا تھا کہ کئی سال کے توقف کے بعد پہلی بار حکومت نے القدس کو غرب اردن سے الگ کرنے کے اس غیرمعمولی منصوبے کی منظوری دینے پر غور کیا ، یہ تعمیرات ایک ایسے وقت میں کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے جب امریکا میں ری پبلیکن پارٹی کے حمایت یافتہ ڈونلڈ ٹرمپ صدر منتخب ہوچکے ہیں۔
بیشتر صہیونیوں کا خیال ہے کہ ٹرمپ کی کامیابی کے بعد فلسطین میں یہودی آباد کاری کا ایک نیا موقع ہاتھ آیا ہے۔صہیونی حکومت کی طرف سیصرف گیلو کالونی ہی میں توسیع کی منظوری نہیں دی جا رہی ہے بلکہ بیت لحم کے قریب بیت صفافا کے قریب اور بیت المقدس میں جبل مکبر کے قریب یہودی عبادت گاہیں بھی بنائی جا رہی ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ مذہبی یہودیوں کو ان مقامات کی طرف آنے کی ترغیبات دی جاسکیں۔
مبصرین کا کہناتھا کہ اسرائیل نے یہودی آباد کاری اور توسیع پسندی کے حالیہ اقدمات سے ایک بار پھر یہ ثابت کیا ہے کہ تل ابیب فلسطین، اسرائیل تنازع کے منصفانہ حل میں سنجیدہ نہیں بلکہ وہ یہودی کالونیوں کے ذریعے ارض فلسطین کا نقشہ اس طرح بنا رہا ہے تاکہ آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کو ناممکن بنایا جاسکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مشہد میں دو دن


ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…