عمان(مانیٹرنگ ڈیسک) سال 2017 کے لئے دنیا کی 500 انتہائی با اثر مسلمان شخصیات کی فہرست جاری کردی گئی ہے جس میں وزیراعظم نوازشریف اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف اوردیگر30 پاکستانی شخصیات کے نام بھی شامل ہیں۔اردن میں کے دارلحکومت عمان میں رائل اسلام سٹریٹجک سٹڈیز سینٹر کی جانب سے ہر سال دنیا بھر میں مقیم اپنے اپنے شعبوں کے بااثر افراد کی فہرست جاری کی جاتی ہے۔ 2017 کی فہرست میں 13 زمروں میں 450 افراد کو شامل کیا ہے جب کہ ٹاپ 50 لوگوں کی فہرست علیحدہ سے بنائی گئی ہے۔ 13 کیٹگریز میں سیاست، تعلیم ، مذہبی امور، تبلیغ، فلاح و بہبود، معاشرتی مسائل، بزنس، سائنس وٹیکنالوجی، فن و ثقافت، قرآن کی تلاوت، ذرائع ابلاغ، فن و کھیل کی شخصیات اور شدت پسندوں کی فہرست بھی جاری کی گئی ہے۔جبکہ پاکستان کے کئ اہم شخصیات کے نام بھی اس فہرست میں شامل ہیں جن میں عبدالستار ایدھی، ملالہ یوسفزئی، عمران خان، عاصمہ جہانگیر، مولانا فضل الرحمان، مولاناطارق جمیل، مولانا عبدالوہاب، مولانا تقی عثمانی، ڈاکٹر اکبر ایس احمد، ، ڈاکٹر طاہرالقادری، آیت اللہ محمد حسین نجفی، پیرزادہ شیخ محمد امداد حسین، مولانا سلیم اللہ خان، سید ساجد علی نقوی، سراج الحق، ڈاکٹر رفیق اختر، خانم طیبہ بخاری، چوہدری فیصل مشتاق، ڈاکٹر ادیب رضوی، ڈاکٹر عمر سیف، صدیق اسماعیل، زید حامد، سلمان اقبال، میرشکیل الرحمان اور دیگر شامل ہیں جبکہ اس فہرست میں میئرلندن صادق خان بھی پاکستانی شخصیات میں شامل کیاگیاہے کیونکہ و ہ بنیادی طورپرپاکستان سے تعلق رکھتے ہیں ۔
پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کارکنوں کو 30 اکتوبر کیلئے تیار رہنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔ نجی ٹی وی رپورٹ کے مطابق عمران خان نے کارکنوں کو کہا ہے کہ وہ رہائش کیلئے عارضی انتظامات بھی کرکے لائیں۔اس سے قبل نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر تجزیہ نگار نے کہاتھا کہ 30 اکتوبر کو اتوار ہے جس دن اسلام آباد پہلے سے ہی بند ہوگا لیکن یہ مت سمجھا جائے کہ عمران خان اسلام آباد کو صرف ایک دن کیلئے بند کرنے جا رہے ہیں۔ سینئر تجزیہ نگار نے کہا کہ عمران خان نے بڑے واضح الفاظ میں یہ بتایا ہے کہ جب تک وہ نواز شریف سے استعفیٰ نہیں لیتے تو وہ اسلام آباد سے واپس نہیں جائیں گے۔ سینئر تجزیہ نگار حامد میر نے کہا کہ میری اطلاعات کے مطابق عمران خان نے اپنے تمام رہنماؤں کو کہہ دیا ہے کہ وہ جو لوگ ساتھ لائیں گے، ان کا 4,5 دن کارشن پانی ساتھ لے کر آئیں۔ حامد میر نے کہا کہ عمران خان نے یہ اپنی سیاسی زندگی کا سب سے بڑا جواء کھیلا ہے۔ عمران خان کے پاس واپسی کا راستہ نہیں ہے۔ حامد میر نے کہا کہ عمران خان نے صرف یہ اعلان نہیں کیا کہ وہ استعفے کے بغیر اسلام آباد سے واپس جائیں گے بلکہ انہوں نے ساتھ میں یہ بھی کہا ہے کہ جب تک ان کا مطالبہ پورا نہیں ہوتا ، جب تک وہ اپنا مقصد حاصل نہیں کر لیتے ،



















































