اتوار‬‮ ، 09 اگست‬‮ 2026 

پاکستان میں سرجیکل سٹرائیکس کا دعویٰ چاپان نے بھارتی ہنڈیا بیچ چوراہے پر پھوڑ ڈالی‎

datetime 2  اکتوبر‬‮  2016 |

بھارت کی جانب سے سرجیکل سٹرائیکس کا دعویٰ کرنا جہاں ایک طرف خود بھارت کے لئے بدنامی کا باعث بن رہا ہے وہیں دوسری جانب بھارت کو اپنے اس جھوٹ کو ثابت کرنے کے لئے بھی بے حد مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔

مقبوضہ جموں اور کشمیر میں بھارتی فوج کے مظالم کو چھپانے کےلئے رچایا جانے والا اڑی حملہ اور اس کی بنیاد پر پورے بھارت میں جنگی جنون پیدا کرنے کے بعد بھارتی سرکار کو جب فوج کی جانب سے کارروائی کرنے سے انکار کا سامنا کرنا پڑا تو چانکیہ کے جھوٹ بولنے کے فلسفہ کے پیروکاروں نے خود سے ہی جھوٹ گھڑ لیا کہ بھارت نے پاکستان میں سرجیکل سٹرائیک کر کے دہشت گردوں کے آٹھ ٹھکانوں کو تباہ کیا ہے ۔ یہیں نہیں بلکہ بھارتی وزیر دفاع نے اپنی فوجوں کو شاباش جبکہ دآرمی چیف دلبیر سنگھ نے اس دستے سے ملاقات بھی کر ڈالی ، مگرجیسے ہی یہ خبریں منظر عام پر آئیں بھارتی میڈیا اور حکومت کے اس جھوٹ کا پول ایک دن بھی برقرار نہ رہ سکا، چاپانی جریدے ڈپلومیٹ نے اپنی ایک رپورٹ میں یہ پردہ ہی فاش کر دیا کہ بھارت پاکستان کے خلاف سرجیکل سٹرائیکس کرنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتا ۔ جاپانی جریدے نے بھارت کی مکمل عسکری صلاحتیوں کو تجزیہ کرنے کے بعد یہ بات ثابت کر دی ہے کہ بھارت کے پاس اس قسم کی صلاحیت ہی نہیں ہے کہ وہ  پاکستان کے خلاف اس قسم کی کارراوئی کر سکے مزید یہ کہ پاکستانی فوج پیشہ ورانہ لحاظ سے بھارتی فوج سے بہت آگے ہے جس کے بعد اس قسم کی کارروائی کے امکانات بالکل ہی معدوم ہو جاتے ہیں ۔ رپورٹ میں بھارتی مشینری کا تجزیہ کیا گیا ہے ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سرجیکل سٹرائیکس کے لئے ڈرون ، گائیڈڈ میزائل ، جی پی ایس شیلنگ سمیت جدید ترین سسٹم کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ بھارت کولڈ وار سسٹم کی پرانی مشینری استعمال کرتا ہے، اوراس  کے ساتھ ہی ساتھ بھارتی فوج کو جدید مشینری اور طریقہ کار کی تربیت بھی نہیں ہے۔ جریدے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بھارت ڈرون اور گائیڈڈ میزائل سے بھی محروم ااور پرانے میزائل استعمال کرتا ہے ۔ جبکہ ہیلی بورن اور روایتی میزائل سسٹم سے بھی پاکستان میں کارروائی کرنا بھارت کے لئے محض ایک خواب ہی ہے کیونکہ پاکستان کا ائیر ڈیفنس سسٹم دنیا بھر میں بے مثال مانا جاتا ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…