نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) مقبوضہ کشمیر میں اڑی حملے کے بعد جہاں بھارتی حکومت اورفوج نے پاکستان کو آنکھیں دکھانے کی کوشش کی وہیں بھارتی میڈیا بھی کچھ نیا لے آیا۔جس کابھانڈابھارتی اخبارنے خود پھوڑڈالا۔بھارتی اخبار انڈین ایکسپریس کی خبر کے مطابق اڑی حملے میں جو اسلحہ پکڑاگیا ان پر کوئی ایسا نشان نہیں تھاکہ یہ پتہ چلے کہ اس کو پاکستان میں بنایا گیاتھا۔اڑی سیکٹر میں بریگیڈ ہیڈکوارٹرپرحملے کےبعد 4کلاشنکوف بھارتی فوج کی جانب سے تحقیقات کاروں کے سپرد کی گئیں۔اس کے علاوہ جو گرینیڈزبھی اس حملے میں استعمال کئے گئے،ان پرکوئی ایسا نشان نہیں جس سے یہ پتہ چلے کہ اسے فوجی مقاصد کےلیے تیارکیاگیاتھا۔جبکہ اڑی حملے کے فوری بعد بھارتی حکومت اورفوج نے بغیرسوچے سمجھے روایتی دشمنی میں پاکستان پرجھوٹے الزامات عائد کردیئے تھے ۔واضح رہے کہ بھارتی ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز لیفٹینٹ جنرل رنبیر سنگھ نے پاکستان پر الزام عائد کرتے ہوئے کہاتھاکہ اڑی حملے میں استعمال کئے گئت ہتھیاروں پر ایسے نشانات موجود ہیں جس سے معلوم ہوا کہ یہ پاکستان میں تیار کئے گئے تھے۔بھارتی وزارت دفاع نے میڈیا اداروں کو ہدایت کی ہےکہ اس نوعیت کی خبریں نشر یا جاری کرنے سے قبل وزارت سے ہدایت لینا لازمی ہوگا۔انھوں نے اس خبر کی اشاعت پر بھی نوٹس لیا ہے۔

اُڑی حملہ،استعمال ہونے والا اسلحہ کس ملک کا تھا؟ بھارتی جنرل نے پاکستان پر الزام لگاکربھارت کو ہی پھنسادیا
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا
-
شادی شدہ مرد کا کسی غیر لڑکی سے تعلق جرم نہیں، عدالت کا اہم فیصلہ
-
تمکنت منصور نے پاکستانی ایپسٹین کو بے نقاب کر دیا
-
4 اپریل کو عام تعطیل کا اعلان
-
یکم اپریل سے تعلیمی ادارے ہفتے میں کتنے دن کھلیں گے؟ بڑا اعلان ہوگیا
-
راولپنڈی میں ڈرائیور اور کنڈکٹر نے مسافر ویگن میں 19سالہ شادی شدہ خاتون کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ ب...
-
عرب ٹی وی کے پروگرام میں سینیٹر مشاہد حسین اور اسرائیلی قومی سلامتی کے سابق مشیر میں بحث ہو گئی۔۔۔ و...
-
ایل پی جی کی فی کلو قیمت میں بڑا اضافہ
-
نئے فارمولے کے تحت فکسڈ چارجز، بجلی صارفین کا بل کئی گنا بڑھ گیا
-
سونے کی قیمت نے پھر اڑان بھر لی
-
پی ٹی آئی کے اہم رہنما نے عدالت میں سرنڈر کر دیا
-
750روپے کا پرائز بانڈ رکھنے والوں کے لیے بڑی خوشخبری آگئی
-
حکومت کا اسمارٹ لاک ڈاؤن کے حوالے سے اہم فیصلہ
-
اپریل میں بارش کے نئے سلسلے کے حوالے سے نئی ایڈوائزری جاری



















































