پیر‬‮ ، 30 مارچ‬‮ 2026 

سعودی سفارتخانے پر حملے کا حکم ایران سے کس نے دیا تھا؟ مرکزی ملزم نے تہلکہ خیز انکشافات کر دیئے

datetime 4  اگست‬‮  2016 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے مقرب سمجھے جانے والے ایک مذہبی پریشر گروپ کے سربراہ اور سعودی سفارت خانے پر حملوں کے منصوبہ ساز قرار دیے جانے والے حسن میھن نے تسلیم کیا ہے کہ انہوں نے پاسداران انقلاب، پاسیج فورس اور نجی ملیشیا ’فرزندان حزب اللہ انقلابیین‘ کے کارکنوں کو سعودی عرب کے سفارت خانے پر دھاوا بولنے پر اکسایا تھا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق سعودی سفارت خانے پرحملے کے مرکزی ملزم کرد میھن نے صدر حسن روحانی کے نام اخبارات میں ایک کھلا خط شائع کرایا ہے اس میں کہا گیا ہے کہ سعودی سفارت خانے پرحملے کے معاملے پر تہران حکومت ٹال مٹول کی پالیسی پرعمل پیرا ہے۔ حکومت چاہتی تو سفارت خانے پر یلغار روکی جاسکتی تھی۔ یلغار کرنے والے بلوائیوں کو بھی یقین تھا کہ پولیس اور دیگر سیکیورٹی ادارے انہیں سفارت خانے پرحملے کے کوشش کے دوران سختی سے روکیں گے اور نہ رکنے پر تشدد کا نشانہ بنائیں گے۔
مگر اس موقع پر سیکیورٹی حکام کی طرف سے کوئی چھیڑ چھاڑ نہیں کی گئی۔میھن نے تسلیم کیا کہ اس نے اپنے گروپ کے ارکان کو ٹلیگرام کے ذریعے سعودی عرب کے سفارتخانے پر دھاوا بولنے کی ترغیب دی تھی۔دوسری جانب ایرانی حکومت نے سعودی عرب کے سفارت خانے پرحملے کے ماسٹر مائنڈ کے الزامات کو یکسر مسترد کردیا ہے۔ تہران وزارت خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی کا کہنا تھا کہ حسین کرد میھن کی جانب سے حکومت پر ٹال مٹول اور دوغلی پالیسی اپنانے کا الزام قطعا بے بنیاد ہے۔ترجمان نے مزید کہا کہ ’باوجود اس کہ سعودی عرب کا سفارت خانہ ایک دشمن ملک کا سفارت خانہ تھا مگر کسی گروپ کو کسی بھی دوسرے ملک کے سفارت خانے پر یلغار کا حق نہیں دیا جاسکتا ہے۔ ایسا کرنا ایران کے قوانین کی صریح خلاف ورزی ، قابل مذمت اور ناقابل قبول امر ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایران کے لیے واحد آپشن


بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…