نئی دہلی (این این آئی)سیکولر بھارت میں سے ایک نئی ’’ہندوریاست‘‘ کا قیام جلد متوقع،خطرے کی گھنٹی بج گئی،بھارت میں دلت برادری نے کہاہے کہ ہندوؤں کے گناہ کی وجہ سے ہی دلت سماج مردہ گائے یا مرے جانوروں کا گوشت کھانے پر مجبور ہے۔بھارتی خبررساں ادارے کے مطابق یہ بات بھارتی ریاست گجرات کے سریندر میں ضلع کلکٹر کے دفتر کے باہر مردہ گائیں پھینک کر غصہ ظاہر کرنے والے دلت کارکن نٹو بھائی پرمار نے بات چیت میں کہی،نوسرجن ٹرسٹ سے منسلک نٹو بھائی پرمار وہ دلت کارکن ہیں جنھوں نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ کلکٹر کے دفتر کے باہر مردہ گائیں پھینکنے کا فیصلہ کیا تھا۔جنوبی گجرات کے موٹے سمادھیالا گاؤں میں کچھ دن پہلے چمڑے کے ایک کارخانے میں مری ہوئی گائے کی چمڑی اتارنے پر پر چار دلت نوجوانوں کی سرعام پٹائی کی گئی۔تبھی سے دلت کمیونٹی میں غصہ اور بے چینی پائی جاتی ہے۔اس کی مخالفت میں 18 جولائی کو سریندر ضلع کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے دفتر کے باہر مری ہوئی گائیں پھینک کر دلت کمیونٹی نے اپنے غصے کا ایک نئے طریقے سے اظہار کیا۔یہ مخالفت کا پرامن مگر ساتھ ہی مشتعل طریقہ تھا جسے بھارت کے دلت تحریک میں ایک نیا اعتماد کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔نٹو بھائی پرمار نے کہا کہ مری گائے کا گوشت کھانے کی روایت ہم نے شروع نہیں کی تھی۔ صدیوں سے ہمارے ساتھ ناانصافی اور ظلم ہوتا رہا ہے. ہمیں گاؤں کے باہر رکھا جاتا تھا. جو اپنے آپ کو ہندو کہتے ہیں، انھی کے گناہ کی وجہ سے ہمارے باپ دادا اور ہم آج بھی مری ہوئی گائے یا مردہ جانوروں کے گوشت کھانے پر مجبور ہیں۔انھوں نے کہا کہ ہندو قوم کی بات کرنے والے، دلتوں کو صرف تعداد بڑھانے کے لیے ہندو کہتے ہیں، پر دراصل انھیں ہندو نہیں مانتے۔پرمار نے کہا کہ ہندو قوم کی ذات کے نظام میں دلت سب سے نیچے کی نشان پر ہیں۔پرمار نے کہا کہ امیتابھ بچن کو کچھ ہوتا ہے تو وزیراعظم نریندر مودی فوری طور پر ٹویٹ کرتے ہیں، پر اتنی بڑی واردات ہوگئی اور انھوں نے کچھ نہیں کیا۔ وہ خاموش ہیں۔انہوں نے کہاکہ ریلی کی اجازت لیتے وقت ہم نے انتظامیہ سے دس گاڑیوں کو جلوس میں رکھنے کی اجازت مانگی تھی، لیکن انھیں یہ نہیں بتایا کہ ان گاڑیوں میں مری ہوئی گائیں ہوں گی۔ ہم نے بہت سے دیہات سے مری گائیں منگوا کر انھیں کمپاؤنڈ کے سامنے پھینک دیا۔انہوں نے کہاکہ ہزاروں سال سے مری گائے کی کھال نکال کر چمڑے بنانے کا کام اب وہ نہیں کریں گے اور یہ کام اب شیو فوجیوں کو کرنے کو کہا جائے۔انہوں نے کہاکہ آج بھی گجرات میں دلتوں کی حالت قابل رحم ہے۔ ہمیں مندروں میں داخلہ نہیں ملتا، ہمارے بچوں کو الگ سے بٹھا کر کھانا کھلایا جاتا ہے، عوامی مقامات پر ہم نہیں جا سکتے۔ کئی مقامات پر اس کے خلاف فریاد کی، لیکن ایسا کرنے پر بائیکاٹ کر دیا جاتا ہے۔
سیکولر بھارت میں سے ایک نئی ’’ہندوریاست‘‘ کا قیام جلد متوقع،خطرے کی گھنٹی بج گئی
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
تھینک گاڈ
-
ایک گانے کی وجہ سے ملک بھر میں گرفتاریاں، 36 سال پرانا گانا منچلوں کو مہنگا پڑ گیا
-
ایک سے زائد سنگل فیز میٹرلگا کر بجلی بلوں میں سبسڈی حاصل کرنے والے صارفین کی شامت آگئی
-
تعلیمی اداروں میں موسم گرما کی تعطیلات کا اعلان کردیا گیا
-
19 سے 22 مئی کے دوران ملک کے مختلف اضلاع میں بارش، آندھی اور ژالہ باری کی پیش گوئی
-
’’بیٹی کی قبر پر جاتی ہوں تو معافیاں مانگتی ہوں‘‘، عشرت فاطمہ نے زندگی کا دکھ بھرا لمحہ سنادیا
-
عید الاضحیٰ پر رواں سال 5 سے 6 سرکاری چھٹیوں کا امکان
-
بیرون ملک جانے کے لیے کون سی دستاویز درکار ہیں، نئی شرائط جاری
-
عید پر حکومت کا اہم اعلان! سرکاری ملازمین کیلئے بڑی خوشخبری آگئی
-
منشیات فروش پنکی کے قومی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کی تفصیلات سامنے آگئیں
-
الرجی، خون کی کمی اور انفیکشن کے مریضوں کیلئے اہم الرٹ جاری
-
عالمی ثالثی عدالت کا بھارت کے خلاف پاکستان کے حق میں بڑا فیصلہ
-
غیر ملکی جوڑے نے قصور کےخاندان کو 130 سالہ غلامی سے نجات دلا دی
-
’’عمران خان کیخلاف عدم اعتماد کامیاب ہوتی ہے تو واشنگٹن سب کچھ معاف کر دے گا‘‘ پاکستانی سفیر کا مبین...



















































