انقرہ(این این آئی)ایک ترک اخبار نے الزام عائد کیا ہے کہ تین جون کو استنبول میں ہونے والا دہشت گردانہ حملہ، جرمنی کی جانب سے ترکی کے خلاف ایک اور کارروائی تھی۔ترک اخبار کی رپورٹ میں کہاگیا کہ پہلے تو جرمن پارلیمان نے سلطنت عثمانیہ کے ہاتھوں آرمینیائی باشندوں کے قتل عام کو ’نسل کشی‘ قرار دینے کی منظوری دی اور پھر استنبول میں یہ دہشت گردانہ کارروائی کی۔ اس اخبار کے مطابق جرمن پارلیمان کے منظوری کے بعد ترک ردعمل کی وجہ سے جرمنی نے یہ حملہ کیا، جس میں گیارہ افراد ہلاک ہو گئے۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا کہ استنبول میں اس دہشت گردانہ کارروائی کے ذریعے جرمنی نے ترکی کی توجہ آرمینیائی معاملے سے ہٹانے کی کوشش کی۔ادھر جرمنی میں ترک برادری کی نمائندہ تنظیم ٹی جی ڈی کے سربراہ گیوکے سوفواولو نے کہاکہ اس طرز کی اخباری خبریں اشتعال انگیزی اور سراسیمگی کو ہوا دینے کی کوشش ہیں، جن کا مقصد ایردوآن کے خودساختہ قوم پرست ایجنڈے کو آگے بڑھانا ہے۔ اس تنظیم کے مطابق ترک اخبارات کی ایسی خبروں کو یکسر رد کر دیا جانا ضروری ہے۔سوفواولو نے کہاکہ یہ رپورٹ اس بات کی جانب اشارہ کرتی ہے کہ ترکی میں میڈیا اب کسی صورت آزاد نہیں رہا۔
تین جون کو استنبول میں حملہ کس یورپی ملک نے کرایا،ترک میڈیا کی رپورٹ نے بڑا تنازعہ کھڑاکردیا
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
ایران کے لیے واحد آپشن
-
مشہور بھارتی اداکارہ ٹریفک کے المناک حادثے میں چل بسیں
-
سونا مزید سستا ہو گیا
-
ایران نے اسرائیل پرداغے جانے والے میزائلوں پر تھینک یو پیپلز آف پاکستان لکھ دیا
-
عوام کو سستے پیٹرول کی فراہمی ! حکومت کا 24 ہزار فونز خریدنے کا اعلان
-
محلے دار نے بھتیجے کے گھر آئی خاتون کو زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا
-
پاکستان کرکٹ بورڈ نے نسیم شاہ کو شوکاز نوٹس جاری کردیا
-
وزیراعظم شہباز شریف کا پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں بارے بڑا اعلان
-
حمزہ علی عباسی کی بہن نے لاکھوں ڈالرز اور درہم کیسے بیرون ملک منتقل کئے؟ الزامات کی تفصیلات
-
ریشم نے بہت سے گھر اور زندگیاں تباہ کی ہیں’ دیدار کا الزام
-
دوستی نہ کرنے پر فٹ بالر نوجوان کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا
-
خلیجی ممالک نے عراق سے اہم مطالبہ کر دیا
-
رجب بٹ کا ذوالقرنین سکندر اور کنول آفتاب کو دوٹوک جواب، تنازع شدت اختیار کر گیا
-
آبنائے ہرمز سے باحفاظت گزرنے کیلئے بحری جہاز ایران کو 20 لاکھ ڈالر تک ادائیگی کررہے ہیں: فنانشل ٹائ...



















































