جمعرات‬‮ ، 06 اگست‬‮ 2026 

ایران نے سعودی سفارت خانے پرحملوں کے ماسٹر مائنڈ کو رہا کردیا ،مقامی میڈیا

datetime 2  مارچ‬‮  2016 |

تہران (نیوز ڈیسک)ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت نے شدت پسند مذہبی رہنما اور 2 جنوری 2016ء کو تہران میں سعودی عرب کے سفارت خانے پرحملوں کے منصوبہ ساز حسن کرد میھن کو رہا کردیا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق سعودی سفارت خانے میں آگ لگا کر سفارتی عملے سمیت دسیوں افراد کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالے والیشدت پسند کو ایک ایسے وقت میں رہا کیا گیا ہے جب دوسری جانب ایرانی حکومت اسے کڑی سزا دینے کے دعوے کررہی تھی۔ ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری علی شمخانی نے 16 فروری کو اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ سعودی سفارت خانے پریلغار کرنے والے تمام ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور انہیں قرار واقعی سزا دی جائے گی۔فارسی نیوزویب پورٹل’’زیتون‘‘ نے مصدقہ ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ حکام نے سعودی سفارت خانے پرحملے کے ماسٹر مائنڈ کو رہا کرنیکی تصدیق کی ہے تاہم اس کی مزید تفصیل نہیں بتائی گی۔خیال رہے کہ شدت پسند ایرانی مبلغ حسن کرد میھن نے اپنی ایک تقریر میں تہران میں سعودی سفارت خانے پرحملہ کرکے اسے نذرآتش کرنے کے اقدام کا دفاع کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’میں مانتا ہوں کہ موجودہ عالمی حالات کے تناظر میں رہبر اعلیٰ اس کارروائی کی حمایت نہیں کریں گے مگر وہ اسے روک بھی نہیں سکتے تھے۔بعد ازاں ایرانی مجلس شوریٰ کی خارجہ پالیسی وقومی سلامتی کمیٹی کے رکن محمد رضا محسنی ثانی نے اپنے ایک بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ سعودی سفارت خانے پرحملے کا منصوبہ ایرانی رجیم کے مقرب حسن کرد میھن نے تیار کیا تھا جو ماضی میں پاسدارن انقلاب کی طرف سے شام میں بھی بشارالاسد کے دفاع میں لڑائی میں شریک رہا ہے۔خیال رہے کہ حال ہی میں ایرانی حکومت نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے سعودی سفارت خانے اور مشہد میں قونصل خانے پرحملوں کے منصوبہ ساز کرد میھن کو حراست میں لے لیا ہے۔ کرد میھن جنوب مغربی تہران کے کرج شہر میں انصار حزب اللہ نامی تنظیم کا اہم عہدیدار ہے اور یہ گروپ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کا مقرب خاص سمجھا جاتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…