لندن (نیوزڈیسک)آئندہ یورپی یونین کے رکن ملکوں سے نقل مکانی کر کے برطانیہ میں کام کرنے والے شہریوں کو مکمل سماجی مراعات تک رسائی کیلئے چار سال تک کا انتظار کرنا ہو گا۔ برطانیہ کو سات سال تک کے لیے اس ضابطے کے استعمال کی اجازت دی گئی ہے۔برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے برطانوی عوام سے کہا ہے کہ یہ سمجھوتہ برطانیہ کے مفادات کو تحفظ فراہم کرتا ہے اس لیے وہ ا±ن سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ یونین میں برطانیہ کی شمولیت جاری رکھنے کے حق میں رائے دیں۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ یونین کے اندر رہتے ہوئے زیادہ مضبوط ہو گا، نہ کہ اسے چھوڑ کر۔ کیمرون ہفتے کے روز اپنی کابینہ کو اس ڈیل کی تفصیلات سے آگاہ کریں گے جبکہ پیر کو پارلیمان سے خطاب کریں گے۔ تاہم آیا اس ڈیل کے بعد بھی برطانوی ووٹر یورپی یونین کے حق میں ہی رائے دیں گے، یہ بات یقین سے نہیں کہی جا سکتی۔ نیوز ایجنسی کی ایک رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں یونین کے حق میں اور مخالفت میں رائے رکھنے والوں کی تعداد تقریباً برابر ہے۔ جمعہ19فروری کو منظرِ عام پر آنے والے ایک سروے کے نتائج کے مطابق یونین سے برطانیہ کے اخراج کے حق میں رائے رکھنے والوں کی تعداد دو فیصد زیادہ تھی۔ جہاں سروے میں شریک 34فیصد برطانوی شہریوں نے یونین کے حق میں رائے دی، وہاں اس کے خلاف رائے رکھنے والوں کی شرح چھتیس فیصد تھی۔ جو شرکاء ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کر پائے کہ اپنا ووٹ کس حق میں دیں، ا±ن کی شرح اس سروے میں 23 فیصد بتائی گئی ہے۔ سات فیصد کا کہنا تھا کہ وہ ووٹ ڈالنے کا ہی کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔واضح رہے کہ برطانیہ کو پہلے بھی یورپی یونین کا ایک ڈھیلا ڈھالا رکن ہی کہا جا سکتا ہے کیونکہ نہ تو وہ مشترکہ کرنسی یورو کو اپنانے والے ملکوں پر مشتمل یورو زون میں شامل ہوا ہے اور نہ ہی باہمی داخلی سرحدوں پر چیکنگ ختم کرنے والے ملکوں کے شینگن زون کا رکن بنا ہے۔ اسی طرح وہ پولیس اور عدلیہ کے درمیان تعاون کے کئی دیگر معاہدوں میں بھی شامل نہیں ہوا۔یادرہے کہ یورپی یونین کی برسلز منعقدہ دو روزہ سربراہ کانفرنس میں سربراہانِ مملکت و حکومت کے درمیان برطانیہ کے لیے اصلاحات کے ایک ایسے پیکج پر اتفاقِ رائے ہو گیا ہے، جس کا مقصد اس ملک کو یورپی یونین چھوڑنے سے روکنا ہے۔ یہ سمجھوتہ اٹھارہ گھنٹے تک جاری رہنے والے پیچیدہ مذاکرات کے بعد عمل میں آیا۔برطانیہ کے وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے اعلان کیا ہے کہ یورپی یونین میں برطانیہ کی رکنیت رکھنے یا نہ رکھنے پر عوامی ریفرنڈم رواں برس تیئیس جون کو ہو گا۔ انہوں نے ریفرنڈم کے اعلان سے قبل یورپی یونین کی ڈیل طے ہونے پر کہا تھا کہ برطانیہ یونین میں رہتے ہوئے محفوظ اور توانا رہ سکتا ہے۔ اپنے دفتر کے باہر ریفرنڈم کا اعلان کرتے ہوئے برطانوی وزیراعظم نے واضح طور پر کہا کہ وہ برسلز سے نہیں برطانیہ سے محبت کرتے ہیں۔ مبصرین کا خیال ہے کہ کیمرون کی کابینہ کے بعض وزرائ یورپی یونین کو چھوڑنے کی مہم جاری رکھ سکتے ہیں۔
موجیں ختم،برطانیہ میں کام کرنیوالوں پر نئی پابندیاں عائد
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
عوام کے لئے ریلیف ! پیٹرول 55 روپے مہنگا کرنے کے بجائےحکومت کا بڑا فیصلہ
-
ملک بھر میں پیٹرول پمپس بند؟ بڑا اعلان سامنے آگیا
-
پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تاریخی اضافے کا امکان
-
آبنائے ہرمز کھل گئی
-
ہیکل سلیمانی
-
حکومت کا موٹر سائیکل اور رکشے والوں کو سستا پیٹرول دینے کا فیصلہ
-
سونے کی قیمت میں تاریخ کی سب سے بڑی کمی کے بعد آج پھر بڑا اضافہ
-
ملک بھر میں طوفانی ہواؤں کے ساتھ موسلا دھار بارشوں کی پیشگوئی
-
چھٹیوں میں اضافے کی خبریں! وزیرتعلیم پنجاب کا اہم بیان آگیا
-
ایل پی جی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ
-
ایران نے جنگ روکنے کیلئے 6 سٹریٹجک شرائط پیش کردیں
-
خیبرپختونخوا حکومت نے طورخم بارڈر کھولنے کی منظوری دیدی
-
سونے کی قیمت میں مسلسل دوسرے روز بڑا اضافہ
-
سعودی عرب نے ویزا ہولڈرز کو رعایت دیدی



















































