بدھ‬‮ ، 05 اگست‬‮ 2026 

موجیں ختم،برطانیہ میں کام کرنیوالوں پر نئی پابندیاں عائد

datetime 21  فروری‬‮  2016 |

لندن (نیوزڈیسک)آئندہ یورپی یونین کے رکن ملکوں سے نقل مکانی کر کے برطانیہ میں کام کرنے والے شہریوں کو مکمل سماجی مراعات تک رسائی کیلئے چار سال تک کا انتظار کرنا ہو گا۔ برطانیہ کو سات سال تک کے لیے اس ضابطے کے استعمال کی اجازت دی گئی ہے۔برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے برطانوی عوام سے کہا ہے کہ یہ سمجھوتہ برطانیہ کے مفادات کو تحفظ فراہم کرتا ہے اس لیے وہ ا±ن سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ یونین میں برطانیہ کی شمولیت جاری رکھنے کے حق میں رائے دیں۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ یونین کے اندر رہتے ہوئے زیادہ مضبوط ہو گا، نہ کہ اسے چھوڑ کر۔ کیمرون ہفتے کے روز اپنی کابینہ کو اس ڈیل کی تفصیلات سے آگاہ کریں گے جبکہ پیر کو پارلیمان سے خطاب کریں گے۔ تاہم آیا اس ڈیل کے بعد بھی برطانوی ووٹر یورپی یونین کے حق میں ہی رائے دیں گے، یہ بات یقین سے نہیں کہی جا سکتی۔ نیوز ایجنسی کی ایک رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں یونین کے حق میں اور مخالفت میں رائے رکھنے والوں کی تعداد تقریباً برابر ہے۔ جمعہ19فروری کو منظرِ عام پر آنے والے ایک سروے کے نتائج کے مطابق یونین سے برطانیہ کے اخراج کے حق میں رائے رکھنے والوں کی تعداد دو فیصد زیادہ تھی۔ جہاں سروے میں شریک 34فیصد برطانوی شہریوں نے یونین کے حق میں رائے دی، وہاں اس کے خلاف رائے رکھنے والوں کی شرح چھتیس فیصد تھی۔ جو شرکاء ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کر پائے کہ اپنا ووٹ کس حق میں دیں، ا±ن کی شرح اس سروے میں 23 فیصد بتائی گئی ہے۔ سات فیصد کا کہنا تھا کہ وہ ووٹ ڈالنے کا ہی کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔واضح رہے کہ برطانیہ کو پہلے بھی یورپی یونین کا ایک ڈھیلا ڈھالا رکن ہی کہا جا سکتا ہے کیونکہ نہ تو وہ مشترکہ کرنسی یورو کو اپنانے والے ملکوں پر مشتمل یورو زون میں شامل ہوا ہے اور نہ ہی باہمی داخلی سرحدوں پر چیکنگ ختم کرنے والے ملکوں کے شینگن زون کا رکن بنا ہے۔ اسی طرح وہ پولیس اور عدلیہ کے درمیان تعاون کے کئی دیگر معاہدوں میں بھی شامل نہیں ہوا۔یادرہے کہ یورپی یونین کی برسلز منعقدہ دو روزہ سربراہ کانفرنس میں سربراہانِ مملکت و حکومت کے درمیان برطانیہ کے لیے اصلاحات کے ایک ایسے پیکج پر اتفاقِ رائے ہو گیا ہے، جس کا مقصد اس ملک کو یورپی یونین چھوڑنے سے روکنا ہے۔ یہ سمجھوتہ اٹھارہ گھنٹے تک جاری رہنے والے پیچیدہ مذاکرات کے بعد عمل میں آیا۔برطانیہ کے وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے اعلان کیا ہے کہ یورپی یونین میں برطانیہ کی رکنیت رکھنے یا نہ رکھنے پر عوامی ریفرنڈم رواں برس تیئیس جون کو ہو گا۔ انہوں نے ریفرنڈم کے اعلان سے قبل یورپی یونین کی ڈیل طے ہونے پر کہا تھا کہ برطانیہ یونین میں رہتے ہوئے محفوظ اور توانا رہ سکتا ہے۔ اپنے دفتر کے باہر ریفرنڈم کا اعلان کرتے ہوئے برطانوی وزیراعظم نے واضح طور پر کہا کہ وہ برسلز سے نہیں برطانیہ سے محبت کرتے ہیں۔ مبصرین کا خیال ہے کہ کیمرون کی کابینہ کے بعض وزرائ یورپی یونین کو چھوڑنے کی مہم جاری رکھ سکتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…