جمعرات‬‮ ، 26 مارچ‬‮ 2026 

عراق میں تابکاری موادچوری،امریکی اورسوئس فرم کے الزامات،یورپی ممالک میں بھی کھلبلی

datetime 19  فروری‬‮  2016 |

زیورخ / بغداد(نیوزڈیسک)عراق کے جنوبی شہر بصرہ کے نواح سے گذشتہ سال اچانک غائب ہوجانے والے خطرناک تابکاری مواد کی کوئی بھی متعلقہ ادارہ یا فرم ذمے داری قبول کرنے کو تیار نہیں اور سوئس معائنہ کار گروپ ایس جی ایس اور امریکی فرم ویدر فورڈ انٹرنیشنل نے ایک دوسرے کو واقعے کا ذمے دار ٹھہرایا ہے جبکہ یورپی ممالک میں بھی کھلبلی سی مچ گئی ہے ،میڈیارپورٹس کے مطابق ایس جی ایس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ تابکاری مواد ویدر فورڈ کے مہیا کردہ ایک محفوظ بنکر میں رکھا گیا تھا۔یہی امریکی کمپنی مرکزی کنٹریکٹر تھی اور اس نے اپنے ترک یونٹ کی گیس اور پائپ لائنوں کی جانچ کے لیے خدمات حاصل کی تھیں۔ایس جی ایس کا کہنا ہے کہ ویدر فورڈ کے بنکر سے اس تابکاری مواد کے غائب ہونے کا 3 نومبر 2015ءکو پتا چلا تھا۔ویدر فورڈ نے کہاکہ تابکاری مواد کے لاپتا ہونے کی اس پر کوئی ذمے داری عاید نہیں ہوتی ہے اور اس ضمن میں اس نے عراقی اور امریکی حکام کے اطمینان کے لیے ان کے سوالوں کے جواب دے دیے تھے۔اس نے اپنے بیان میں مزید کہا تھا کہ ایس جی ایس سپروائز گوزتمی کنٹرول کو اس تابکاری مواد اور بنکر تک رسائی حاصل تھی اور اسی کا اس پر کنٹرول تھا۔اس کا ایس جی ایس کے ترک یونٹ کی جانب اشارہ تھا۔تاہم ایس جی ایس کا کہنا تھا کہ اس کے عملے کو اس جگہ تک رسائی کے لیے ویدر فورڈ سے پیشگی تحریری اجازت کی ضرورت ہوتی تھی۔جہاں یہ تمام سرگرمیاں انجام پاتی تھیں ،وہ مکمل طور پر محفوظ اور اس جگہ کے مالک کے مامور کردہ سکیورٹی محافظوں کی حفاظت میں ہوتی ہیں۔ایس جی ایس اس جگہ کی سکیورٹی کی ذمے دار نہیں ہے اور اس کو بنکر تک بھی براہ راست رسائی نہیں ہے۔بیان کے مطابق ایس جی ایس کے ترک یونٹ نے تابکاری مواد کے لاپتا ہونے کی فوری اطلاع عراقی حکام کو دے دی تھی اور ن کے ساتھ تحقیقات میں بھی مکمل تعاون کیا ہے۔ایس جی ایس کا مزید کہنا تھا کہ اس کا عراق سے تعلق رکھنے والی کمپنی تعز کے ساتھ بھی کوئی کاروباری واسطہ نہیں ہے۔یہ کمپنی اس جگہ کے کنٹرول کی ذمے دار ہے اور اس نے غیرملکی عملہ بھرتی کررکھا ہے۔تعز کے ایک آپریشن مینجر نے عراق کے سکیورٹی حکام کا حوالہ دے کر اس موضوع پر بات کرنے سے انکار کردیا تھا۔



کالم



ہیکل سلیمانی


اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…