ہفتہ‬‮ ، 16 مئی‬‮‬‮ 2026 

تاشفین ملک کا کیس نیا رُخ اختیار کرگیا

datetime 11  فروری‬‮  2016 |

واشنگٹن(نیوزڈیسک)امریکی تفتیشی ادارے ایف بی آئی نے کہاہے کہ اس کے ماہرین تاحال اس فون میں موجود مواد تک رسائی میں ناکام رہے جو گذشتہ سال سان برنارڈینو میں عام شہریوں پر حملہ کرنے والے والے جوڑے کی ملکیت تھا،میڈیارپورٹس کے مطابق امریکی شہری سید رضوان فاروق اور ان کی اہلیہ تاشفین ملک نے شدت پسندگروپ دولت اسلامیہ سے متاثر ہو کر ریاست کیلیفورنیا میں 14 افراد کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا۔یہ دونوں افراد حملے کے بعد پولیس سے مقابلے میں مارے گئے تھے اور حکام کو فاروق کے پاس سے ایک موبائل فون ملا تھا۔تاہم ایف بی آئی کے ڈائریکٹر جیمز کومی کا کہنا تھا کہ انکرِپشن ٹیکنالوجی کے سبب اس فون کو ابھی تک نہیں کھولا جا سکا ہے یا بہ الفاظ دگر یہ نہیں پتہ چل سکا کہ اس فون میں کیا مواد موجود ہے۔جیمز کومی نے یہ بات امریکی سینیٹ کی انٹیلیجنس کمیٹی کی سماعت کے دوران بتائی۔انھوں نے متنبہ کیا کہ اس طرح کی ٹیکنالوجی سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ’وسیع پیمانے‘ پر پریشانیاں لاحق ہیں۔ایف بی آئی کے ڈائریکٹر نے کہاکہ یہ (ٹیکنالوجی) پولیس، استغاثہ اور تحقیقات کرنے والے ان اہلکاروں کو متاثر کرتی ہے جو کہ کسی قتل، اغوا یا منشیات کے معاملے کی تفتیش کر رہے ہوتے ہیں۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’اس کے اثرات ہماری قومی سلامتی پر بھی پڑتے ہیں لیکن زیادہ تر یہ مقامی سطح پر قانون نافذ کرنے والوں کے لیے ایک مسئلہ ہے۔دوسری جانب ٹیکنالوجی کمپنیاں زیادہ سے زیادہ ایسی مصنوعات کو فروغ دے رہی ہیں جسے صرف اس کا مالک ہی پورے طور پر استعمال کرسکے۔بہرحال ایسا پہلی بار نہیں ہے کہ ایف بی آئی کے ڈائرکٹر نے ایسی ٹیکنالوجی پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے جو صارفین کی پرائیویسی کا تحفظ کرتی ہے اور اس طرح مجرموں کو قوت بخشتی ہے۔گذشتہ سال وائٹ ہاو¿س نے ایف بی آئی کے اعتراض کے باوجود کمپنیوں سے انکرپٹڈ ڈیٹا کے اشتراک کے منصوبے کو ترک کر دیا تھا۔لیکن یہ مسئلہ سان برنارڈینو اور پیرس میں ہونے والے شدت پسندوں کے حملے کےپیش نظر بہت اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ماہرین نے ایسی صورت حال میں بھی متنبہ کیا ہے کہ اگر کمپنیاں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ذاتی معلومات تک رسائی دیتی ہیں تو اس سے ہیکرز کو بھی وہاں تک رسائی مل سکتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئی سٹل لو یو


یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…

گریٹ گیم(چوتھا حصہ)

لیویونگ زنگ اور اس کا بھائی لیویونگ ہو چین کی…