اسلام آباد (نیوز ڈیسک)آل انڈیا مسلم پرسنل لاءبورڈ نے قراردیاہے کہ سکائپ ، واٹس ایپ ، فیس بک ، ای میل ، ایس ایم ایس ، ٹیلی فون کال اور دیگرسوشل میڈیا ایپس کے ذریعے دی گئی طلاق درست ہے اور اس سے علیحدگی ہوجاتی ہے۔بورڈ نے سپریم کورٹ کے ان ریمارکس پر اظہار ناپسندیدگی کیا جن میں مسلم خواتین کے خلاف امتیازی سلوک کے خاتمے کے لیے اسلامی قوانین کے مطالعہ کی تجویز دی گئی تھی۔
انڈیا ٹی وی سے گفتگوکرتے ہوئے بورڈ کے سینئر رکن اور ترجمان محمد عبدالراہل قریشی نے کہاکہ عدالتی حکم قانونی طورپر مناسب نہیں کیونکہ مسلم لاءمذہب کا لازمی حصہ ہے ، مذہبی آزادی بنیادی حق ہے جس کی ضمانت آئین کے آرٹیکل 25میں بھی دی گئی۔
سوشل میڈیا کے ذریعے طلاق سے متعلق ایسا فتویٰ کہ ہنگامہ کھڑا ہو گیا
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کردی
-
روانگی سے قبل امریکی عملے نے چینی حکام کی دی گئی ہر چیز وہیں پھینک دی
-
گرمیوں کی طویل چھٹیوں پر نجی سکولز کے اعتراضات، حکومت کا بڑا فیصلہ
-
تبو نے بالی ووڈ کی خوفناک حقیقت بے نقاب کردی
-
بھارت اور یو اے ای کے بڑے معاہدے سامنے آگئے
-
پاکستان میں عید الاضحیٰ کب ہوگی اور 17 مئی کو ذوالحج کا چاند نظر آنے کے کتنے امکانات ہیں؟ اہم پیشگو...
-
کاروباری اوقات میں نرمی کا اعلان
-
سونے کی قیمت میں حیران کن کمی
-
سرکاری ملازمین کیلئے بری خبر، تحقیقات کا اعلان
-
انمول پنکی کا ذاتی فلیٹ کہاں اور اس کی مالیت کتنی ہے؟ تفصیلات سامنے آگئیں
-
لاہورمیں 2 سگی بہنوں کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے والے 2 ملزمان مبینہ پولیس مقابلے میں مارے گئے
-
دبئی کی بجٹ ائیرلائن نے پاکستان کے 3 بڑے شہروں کیلئے پروازیں معطل کر دیں
-
نئے کرنسی نوٹوں کے ڈیزائن حوالے سے اہم فیصلہ کر لیا گیا
-
ڈرگ ڈیلر انمول پنکی کے معاملے پر مریم نواز کا ایکشن



















































