ُبرلن(نیوز ڈیسک)یورپی یونین کے رہنماؤں نے ترکی پر زور دیا ہے کہ وہ شام کے علاقے حلب میں تازہ حملوں کے بعد جان بچا کر نقل مکانی کرنے والے تقریباّ 35 ہزار مہاجرین کو پناہ دیں جبکہ ترکی کا کہنا ہے کہ پناہ گزینوں کو سرحد پر ہی خوراک و رہائش دی جاری ہے ۔غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق یورپی یونین کی خارجہ اْمور کی سربراہ فیدریکا موگیرنی نے کہا کہ یہ قانونی کے بجائے اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ پناہ گزیبوں کو تحفظ فراہم کریں۔دوسری جانب ترکی کا کہنا ہے کہ پناہ گزینوں کو اْن کی سرحد ہی میں خوراک اور رہائش فراہم کی جا رہی ہے۔ اس لیے انھیں سرحد عبور کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔اگرچہ ترکی کا کہنا ہے کہ وہ شامی مہاجرین کی مدد کرنے کو تیار ہے، لیکن اطلاعات کے مطابق ترکی نے شام کے ساتھ اپنی سرحد بند کی ہوئی ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق شام میں جنگ کے آغاز سے اب تک ترکی 20 لاکھ سے زیادہ شامی مہاجرین کو اپنے ہاں پناہ دے چکا ہے اور یہ کہنا مشکل ہے کہ آیا ترکی اتنی بڑی تعداد میں حلب سے آنے والے مہاجرین کو ایک ساتھ ملک میں داخل ہونے کی اجازت دے گا یا نہیں۔انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیمیں ترکی سے مطالبہ کر رہی ہیں کہ وہ شامی مہاجرین کے لیے اپنے سرحدی راستے کھولے، لیکن دوسری جانب ترکی کو کئی یورپی ممالک کی طرف سے اس سفارتی دباؤ کا بھی سامنا ہے کہ وہ اپنے ہاں مزید تارکین وطن یا مہاجرین کو پنا نہیں دے سکتے اور ترکی کو اس سلسلے میں محتاط رہنا چاہیے۔حلب سے آنے والی مہاجرین کی اس تازہ لہر کے حوالے سے ترکی نے روس کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے جس کی فضائی کاروائیوں کی وجہ سے علاقے کے لوگ اتنی تیزی کے ساتھ نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔دوسری جانب نیٹو کے سیکرٹری جنرل نے کہا ہے کہ روس کے فضائی حملے شام میں جاری جنگ کے سیاسی حل کی کوششوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔گزشتہ چند دنوں کے دوران روسی فضائیہ کی بمباری کے بعد شام کی سرکاری فوج کو حلب کے علاقے میں باغیوں کے خلاف کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔واضح رہے کہ جمعے کو شام کے سرکاری ٹیلی ویژن کا کہنا تھا کہ حکومت کی حامی طاقتوں نے حلب کے شمال میں رتیان کے قصبے سے باغیوں کو پیچھے دھکیل دیا ہے اور اب رتیان حکومت کی حامی فوجوں کے ہاتھ آ گیا ہے۔شام کے سب سے بڑے شہر حلب کے قریب حکومتی فورسز اور باغیوں کے درمیان جاری لڑائی میں تیزی آئی ہے اور حکومتی دستے باغیوں کے اس اہم ٹھکانے کے گرد گھیرا تنگ کر رہے ہیں۔شام میں جاری خانہ جنگی اور انسانی حقوق پر نظر رکھنے والی برطانیہ میں مقیم تنظیم ’سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس‘ کے مطابق رتیان نامی قصبے کے نواح میں ہونے والی لڑائی میں دونوں جانب سے تقریباً 120 جنگجو مارے گئے۔#/s#
ترکی سرحد پر موجود شامی متاثرین کو پناہ دے،یورپی یونین
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)
-
ہونڈا CD 70 خریدنے والوں کے لیے اہم خبر
-
حج 2027 پیکیجز، پہلی قسط اور اخراجات کی تفصیلات جاری
-
متحدہ عرب امارات نے پاکستانیوں کو ویزے جاری کرنا شروع کردیے
-
حکومت نے سولر بجلی سے متعلق نئی پالیسی پر غور شروع کردیا
-
اوم پوری کی اہلیہ نے شوہر کے ملازمہ سے تعلقات کا انکشاف کردیا
-
پی ٹی آئی رہنما کے قتل میں بڑی پیشرفت، قتل کے ماسٹر مائنڈ کا نام اور وجہ سامنے آگئی
-
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کردیا
-
پوتے نے بیگ میں توپ کے گولے رکھ دئیے، دادی ایئرپورٹ پر پکڑی گئیں
-
سعودی عرب جانے والے پاکستانیوں کے لیے بڑا اعلان
-
سینکڑوں عمرہ زائرین رُل گئے
-
بھارت کے معروف اداکار چل بسے
-
غلط ای چالان منسوخ کرانے کا آن لائن طریقہ پنجاب حکومت نے بتا دیا
-
پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کردی گئی



















































