بدھ‬‮ ، 05 اگست‬‮ 2026 

10ہزار سے زائدرجسٹرڈ مہاجر بچوں سے کیا کرایاجارہا ہے ؟یورپی پولیس کے لرزہ خیز انکشافات

datetime 2  فروری‬‮  2016 |

برسلز(نیوزڈیسک)یورپی پولیس ادارے یوروپول نے کہاہے کہ مہاجرین کے موجودہ بحران کے دوران تنہا یورپ آنے والے دس ہزار سے زائد مہاجر بچے لاپتہ ہو چکے ہیں۔ ان بچوں کے اسمگلروں کے ہاتھ لگ جانے سے متعلق شدید خدشات پائے جاتے ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق یوروپول نے باقاعدہ طور پر اس خطرے کا اظہار کیا ہے کہ یورپ بھر میں ’لاپتہ‘ ہو جانے والے ان دس ہزار سے زائد نابالغ تارکین وطن میں سے کئی بچے جنسی مقاصد کے لیے انسانوں کی اسمگلنگ کرنے والے جرائم پیشہ گروہوں کے ہاتھ لگ چکے ہیںہالینڈ کے شہر دی ہیگ میں، جہاں یوروپول کے صدر دفاتر ہیں، اس ادارے نے ایسی رپورٹوں کی باقاعدہ تصدیق بھی کر دی۔یوروپول کے چیف آف اسٹاف برائن ڈونلڈ نے برطانوی اخبار کو دیے گئے ایک انٹرویو میں بتایا کہ یہ اعداد و شمار ان لاوارث مہاجر بچوں کے ہیں جنہیں مختلف یورپی ممالک میں داخلے کے بعد حکام نے رجسٹر کیا تھا۔ اب لیکن یہ بچے گم ہو چکے ہیں۔برائن ڈونلڈ کے مطابق ایسا کہنا غلط نہ ہو گا کہ 10 ہزار سے زائد بچے لاپتہ ہو چکے ہیں۔انہوں نے یہ انکشاف بھی کیا کہ صرف اٹلی میں گم ہونے والے ایسے بچوں کی تعداد پانچ ہزار ہے جب کہ سویڈن میں بھی ایک ہزار کے قریب مہاجر بچوں کے بارے میں اب کسی کو کچھ معلوم نہیں۔یورپی یونین کے اس پولیس ادارے کے سربراہ نے بتایاکہ سبھی بچے مجرمانہ استحصال کا شکار نہیں ہوئے ہوں گے۔ کچھ ایسے بھی ہوں گے جو اپنے عزیز و اقارب کے پاس چلے گئے ہوں گے۔ یا پھر ہو سکتا ہے کہ کچھ اپنے خاندانوں کے پاس پہنچ گئے ہوں۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ ہمیں ان کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہے کہ وہ کہاں ہیں یا کیا کر رہے ہیں؟مہاجرین کے موجودہ بحران کے دوران صرف گزشتہ برس ایک ملین سے زائد تارکین وطن پناہ کی تلاش میں یورپ پہنچے تھے۔ یوروپول کا اندازہ ہے کہ ان میں سے کم از کم ستائیس فیصد مہاجرین بچے تھے۔یوروپول کے چیف آف اسٹاف کے مطابق ہم دو لاکھ 70 ہزار بچوں کی بات کر رہے ہیں۔ سب کے سب لاوارث نہیں تھے۔ لیکن ہمیں علم ہے کہ تنہا سفر کرنے والے نابالغ مہاجرین کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…