جدہ ( نیوز ڈیسک) پاکستانی وزیراعظم محمد نواز شریف کا دورہ سعودی عرب دونوں ملکوں کے تعلقات کی تقویت اور استحکام کا باعث بنا۔ سعودی کابینہ نے پاکستانی وزیراعظم کے دورہ مملکت پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس کی بدولت پاکستان اور سعودی عرب کے برادرانہ تعلقات کی توثیق ہوئی۔ انہوں نے چینی صدر کے ہمراہ اپنے مذاکرات کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ملک خطے اور دنیا بھر میں امن و استحکام کیلئے کوشاں تھے، ہیں اور رہیں گے ، جبکہ دونوں اس بات کو ضروری سمجھتے ہیں کہ دنیا کو درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے عالمی برادری کو مل جل کر جدوجہد کرنا ہوگی۔ شاہ سلمان نے چین کے ساتھ چودہ معاہدوں کو سیاسی، اقتصادی، تجارتی، ثقافتی، عسکری، سلامتی اور توانائی کے شعبوں میں گہرے تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا آئینہ دار قرار دیا۔ انہوں نے اس حوالے سے یہ بھی کہا کہ دونوں ملکوں کے تعلقات علاقائی بین الاقوامی سطوں پر مؤثر ثابت ہوں گے، سعودی کابینہ نے افغانستان کے دارالحکومت کابل میں بھی دہشتگردانہ حملوں کی مذمت کی، کابینہ نے زرعی اراضی کی چک بندی اور اس کے ضوابط کی منظوری دی۔ وزیر دفاع کو ملائیشیا کے ساتھ سائنسی تکنیکی و صنعتی تعاون کے معاہدے کا اختیار تفویض کیا۔ کابینہ نے زرعی منصوبوں میں شراکت سے متعلق سوڈان کے ساتھ معاہدے کی توثیق کردی۔
نواز شریف اور آرمی چیف سے کیا معاملات طے پائے‘ سعودی حکومت سامنے لے آئی
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)
-
ہونڈا CD 70 خریدنے والوں کے لیے اہم خبر
-
حج 2027 پیکیجز، پہلی قسط اور اخراجات کی تفصیلات جاری
-
متحدہ عرب امارات نے پاکستانیوں کو ویزے جاری کرنا شروع کردیے
-
اوم پوری کی اہلیہ نے شوہر کے ملازمہ سے تعلقات کا انکشاف کردیا
-
پی ٹی آئی رہنما کے قتل میں بڑی پیشرفت، قتل کے ماسٹر مائنڈ کا نام اور وجہ سامنے آگئی
-
حکومت نے سولر بجلی سے متعلق نئی پالیسی پر غور شروع کردیا
-
سعودی عرب جانے والے پاکستانیوں کے لیے بڑا اعلان
-
پوتے نے بیگ میں توپ کے گولے رکھ دئیے، دادی ایئرپورٹ پر پکڑی گئیں
-
سینکڑوں عمرہ زائرین رُل گئے
-
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کردیا
-
غلط ای چالان منسوخ کرانے کا آن لائن طریقہ پنجاب حکومت نے بتا دیا
-
پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کردی گئی
-
اگر مزید جہازنہیں بھیجاگیا تو اسرائیل کے بجائے امریکی دفاع کے انتخاب پر مجبور ہوں گے، امریکی جنرل



















































