ہفتہ‬‮ ، 16 مئی‬‮‬‮ 2026 

اور جاﺅ دوسرے ملک۔۔! یورپ میں تارکین وطن کے ساتھ اب وہ ہوگیا جس کا بھی سوچابھی نہ ہوگا

datetime 24  جنوری‬‮  2016 |

کوپن ہیگن(نیوزڈیسک)ڈنمارک اور سوئٹزرلینڈ کو تارکین وطن کے اثاثے ضبط کرنے کا قانون بنانے پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ لیکن اب معلوم ہوا ہے کہ جرمنی میں ایسے اقدامات پہلے ہی سے کیے جا رہے ہیں،جرمن میڈیاکے مطابق جرمن حکام تارکین وطن سے ان کی نقد رقم ضبط کر رہے ہیں،جرمنی کی وفاقی ریاستوں، باویریا اور باڈن و±رٹمبرگ میں آنے والے مہاجرین سے ایک خاص حد تک نقد رقم لی جا رہی ہے،جرمنی کی وفاقی لیبر کی وزارت نے بھی تصدیق کی ہے کہ تارکین وطن کے لیے سماجی امداد جیسی سہولیات فراہم کرنے سے قبل ضروری ہے کہ مہاجرین کے ذاتی اثاثے استعمال میں لائے جائیں۔جرمنی کی وفاقی ریاست باویریا کے وزیر داخلہ کا کہنا ہے، جرمنی آنے کے بعد ابتدائی استقبالیہ مراکز میں پناہ گزینوں کے ہمراہ لائے گئے سامان میں دستاویزات، قیمتی اشیاءاور نقد رقم تلاش کی جاتی ہے۔باویریا آنے والے تارکین وطن کے اثاثوں اور نقد رقم کی کل مالیت اگر 750 یورو سے زیادہ ہو تو انہیں ضبط کیا جا سکتا ہے۔ جبکہ صوبہ باڈن و±رٹمبرگ 350 یورو اور صوبہ ہیسن میں دو سو یورو سے زائد مالیت کی اشیاءاور نقد رقم ضبط کر لی جاتی ہے۔مختلف صوبوں میں اثاثوں کی مالیت کی حد اس لیے مختلف ہے کیوں کہ جرمنی میں پناہ گزینوں کے لیے سماجی امداد کے قوانین صوبے کی سطح پر بنائے جاتے ہیں۔ جرمنی آنے والے نئے تارکین وطن کو بے روزگار جرمنوں کو دیے جانے والے بے روزگاری الاو¿نس کی نسبت کم رقم دی جاتی ہے۔ جبکہ تسلیم شدہ مہاجرین کے لیے یہ رقم جرمنوں کے برابر ہے۔ لیکن اس سے قبل انہیں اپنے پاس موجود رقم اور اثاثوں کو زیر استعمال لانا ہوتا ہے۔رپورٹ کے مطابق مختلف صوبوں میں تارکین وطن کے اثاثے ضبط کرنے کا طریقہ کار بھی مختلف ہے۔ باویریا اور باڈن و±رٹمبرگ میں پولیس مہاجرین کی جامہ تلاشی لے کر ان کے پاس موجود نقد رقم ضبط کرتی ہے۔ جبکہ صوبہ ہیسن کی وزارت انضمام کے مطابق وہاں تارکین وطن کی رجسٹریشن کے دوران ان کی اقتصادی صورت حال کے بارے میں ان سے انٹرویو اور تحریری بیان لیا جاتا ہے۔جرمنی کی وفاقی وزارت داخلہ نے اس ضمن میں پوچھے گئے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے بتایا کہ نقد رقم ضبط کرنے کا معاملہ وفاقی پولیس کی ذمہ داری نہیں ہے بلکہ یہ صوبائی مسئلہ ہے۔سوشل ڈیموکریٹک پارٹی ایس پی ڈی سے تعلق رکھنے والی جرمنی کی وفاقی کمشنر برائے مہاجرت، ایڈان ا±وزوس نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جرمنی آنے والے پناہ گزینوں کو سماجی مدد لینے سے قبل زیور اور دیگر قیمتی اشیاءکو بیچ کر گزارا کرنا چاہیے۔ ا±وزوس کے مطابق تارکین وطن کو بے روزگار جرمنوں سے بہتر سہولیات نہیں دی جانا چاہئیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘


یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…

گریٹ گیم(چوتھا حصہ)

لیویونگ زنگ اور اس کا بھائی لیویونگ ہو چین کی…

گریٹ گیم(تیسرا حصہ)

ہم بائبل پڑھیں‘ قرآن مجید اور احادیث کا مطالعہ…