منگل‬‮ ، 24 مارچ‬‮ 2026 

”الوداع، اوبامہ الوداع “امریکہ صدرکی زندگی کااہم سفرختم

datetime 11  جنوری‬‮  2016 |

واشنگٹن (نیوزڈیسک)صدر براک اوباما (آج)منگل کی شام سٹیٹ آف دا یونین خطاب میں امریکی انتظامیہ کی کارکردگی اور پالیسیوں کے بارے میں بات کریں گے تاہم صدر اوباما اور ان کے رپبلیکن ناقدین گزشتہ سات سال کے دوران صدر کی کارکردگی اور امریکہ کی مستقبل کی پالیسیوں پر ایک دوسرے سے اختلاف کرتے ہیں۔ اوباما اس دوران ہونے والی پیش رفت اور مضبوط بنیاد کی تعمیر کے کام کو دیکھتے ہیں جس پر مستقبل میں عمارت تعمیر کی جا سکتی ہے۔ صدر اوباما نے کہا کہ ہمارے کاروبار اب 70 ماہ سے ملازمتیوں کے مواقع فراہم کررہے ہیں اور کل ملا کر ایک کروڑ 40 لاکھ سے زائد ملازمتیں بنتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے صاف توانائی میں تاریخی سرمایہ کاری کی اور ملک کو کم کاربن کے اخراج کے مستقبل کی طرف گامزن کیا۔ ہم ایک کروڑ 70 لاکھ امریکیوں کو صحت کے نظام میں شامل کیا ہے۔تاہم رپبلیکن پارٹی کے ارکان نے صدر اوباما کے اقتصادی ریکارڈ کو مایوس کن قرار دیا۔سینیٹر جان ہوون نے کہا کہ ہم یہ سننا چاہتے ہیں کہ اوباما کس طرح امریکی عوام کی تخلیقی صلاحیت اور تحریک کو بروئے کار لائیں گے۔ رپبلیکن ہونے کی حیثیت سے ہم اپنے عظیم عوام اور ملک کو مقابلے اور جیت کے لیے بااختیار بنانا چاہتے ہیں۔سینیٹ میں رپبلیکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے اکثریتی رہنما مچ مکونل نے ’اے بی سی‘ چینل کے پروگرام ’دس ویک‘ کہا کہ صدر مستقبل کے بارے میں بات کریں گے اور ایک رنگین تصویر پیش کرنے کی کوشش کریں گے جو حقیقت نہیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم صدر سے یہ سننا چاہتے ہیں کہ وہ کس طرح داعش کو شکست دیں گے۔وائٹ ہاو¿س کے حکام نے کہا کہ اوباما اپنی انتظامیہ کے اقدامات کی تعریف کرنے کے علاوہ بھی بہت کچھ کہیں گے۔وائٹ ہاو¿س کے چیف آف سٹاف ڈینس مکڈونو نے ’دس ویک‘ میں کہا کہ ”وہ مستقبل کے بارے میں بات کریں گے۔ وہ بہت پر امید ہوں گے۔ وہ عملی اقدامات کی بات کریں گے۔میکڈونو صدر کی تقریر لکھنے میں مدد کر رہے ہیں۔وہ اسے روایتی پالیسی تقریر نہیں بنانا چاہتے جس میں وہ کچھ تجاویز کا ذکر کریں گے۔ ہم آئندہ سال کے دوران کئی پالیسی اقدامات کریں گے۔ بلکہ وہ ایک قدم پیچھے ہٹ کر اس ملک کے مستقبل اور اس کو درپیش چیلنجوں پر نظر ڈالنا چاہتے ہیں۔صدر اوباما کے خطاب پر رپبلیکن ردعمل ساو¿تھ کیرولائنا کی گورنر نکی ہیلے پیش کریں گی جن کے بارے میں کئی افراد توقع کر رہے ہیں کہ انہیں نائب صدر کے عہدے کے لیے نامزد کرنے پر غور کیا جا سکتا ہے۔



کالم



مذہب کی جنگ(آخری حصہ)


اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…