منگل‬‮ ، 04 اگست‬‮ 2026 

پٹھان کوٹ: بھارتی فوج کی نا اہلی کھل کر سامنے آ گئی، دو حملہ آور اب بھی وہاں موجود

datetime 4  جنوری‬‮  2016 |

پٹھان کوٹ(نیوز ڈیسک)بھارتی حکام کے مطابق ریاست پنجاب کے شہر پٹھانکوٹ میں بھارتی فضائیہ کے اڈے پر سنیچر کی صبح حملہ کرنے والوں میں سے کم از کم دو حملہ آور اب بھی وہاں موجود ہیں اور ان کی تلاش جاری ہے۔پٹھان کوٹ سے ہمارے نمائندے نتن شریواستو نے بتایا ہے کہ 50 گھنٹے سے زیادہ کا وقفہ گزر جانے کے بعد بھی حملہ آوروں کی تلاش جاری ہے۔انتہائی سکیورٹی والے فصیل بند وسیع ایئر بیس میں کومبنگ آپریشن یعنی جنگجوؤں کی صفائی کا کام بڑے محتاط انداز میں کیا جا رہا ہے تاکہ مزید ہلاکتوں سے بچا جا سکے۔اس آپریشن میں بھاری فوجی گاڑیاں، حملہ آور ہیلی کاپٹرز اور تربیت یافتہ فوجیوں کا استعمال کیا جا رہا ہے۔فوج کے اعلیٰ اہلکار بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو پٹھان کوٹ کی تازہ صورت حال سے آگاہ کر رہے ہیں۔دریں اثنا حکام نے کہا ہے کہ اس پورے حملے میں سات سکیورٹی اہلکار سمیت 11 افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں چار شدت پسند شامل ہیں۔حکام کا کہنا ہے کہ اس حملے کے بارے میں انھیں پہلے سے اطلاعات تھیں ایسے میں سات سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت حکومت کے لیے شرمندگی کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔بعض حلقوں کی جانب سے ان حملوں کو پاکستان کے ساتھ مذاکرات کی بحالی کو سبوتاڑ کرنے کی کوششوں کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔پٹھان کوٹ سے مسٹر نتن نے بتایا کہ پیر کی صبح چار بجے کے بعد اچانک بھارتی فضائیہ کے طیاروں کی دو تین بار پروازوں سے لوگوں کی آنکھیں کھل گئیں۔یہ بات اہم ہے کہ حملے کے بعد پورے دو دن گزر جانے کے بعد بھی ابھی تک کوئی واضح معلومات نہیں ہے کہ وہ دو شدت پسند کہاں چھپے ہوئے ہیں۔پٹھان کوٹ ائیر بیس شمالی بھارت کے سب سے بڑے ائیر بیس میں سے ایک ہے اور بھارتی فوج دنیا میں تیسری سب سے بڑی فوج تسلیم کی جاتی ہے۔دوسری طرف یہاں پاکستان کے ساتھ سرحد پر آٹھ فٹ اونچی خاردار دیواریں بھی ہیں۔اس آپریشن میں بھاری فوجی گاڑیاں، حملہ آور ہیلی کاپٹرز اور تربیت یافتہ فوجیوں کا استعمال کیا جا رہا ہییہ بات اہم ہے کہ حملے کے بعد پورے دو دن گزر جانے کے بعد بھی ابھی تک کوئی واضح معلومات نہیں ہے کہ وہ دو شدت پسند کہاں چھپے ہوئے ہیں۔پٹھان کوٹ ائیر بیس شمالی بھارت کے سب سے بڑے ائیر بیس میں سے ایک ہے اور بھارتی فوج دنیا میں تیسری سب سے بڑی فوج تسلیم کی جاتی ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…