ہفتہ‬‮ ، 16 مئی‬‮‬‮ 2026 

داعش نے طالبان کی واپسی کے دروازے کھول دیئے،پاکستان سمیت عالمی طاقتوں نے نئی امید لگالی

datetime 1  جنوری‬‮  2016 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک)داعش نے طالبان کی واپسی کے دروازے کھول دیئے،پاکستان سمیت عالمی طاقتوں نے نئی امید لگالی،وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ افغانستان میں حکومت اور طالبان سے مذاکرات کامیاب ہوئے تو داعش سے نمٹا جا سکے گا ¾ طالبان ہماری سرزمین سے افغانستان پرحملے نہیں کرسکتے ¾پاک افغان انٹیلی جنس ایجنسیاں رابطے بڑھائیں گی، کورکمانڈرز،ڈی جی ایم اوز اوردیگرافسرہاٹ لائن پررابطہ رکھیں گے۔سینیٹ میں آرمی چیف کے دورہ افغانستان سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ ملک میں جاری آپریشن ضرب عضب کامیاب رہا ہے اور دہشت گرد تتر بتر ہو رہے ہیں ¾ افغانستان میں امن خطے کے امن کی ضمانت ہے ¾طالبان سے مذاکرات کامیاب ہوئے تو داعش سے نمٹا جا سکے گا، اپنی زمین افغانستان کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے، طالبان ہماری سرزمین سے افغانستان پرحملے نہیں کرسکتے۔ پاک افغان انٹیلی جنس ایجنسیاں رابطے بڑھائیں گی، کورکمانڈرز،ڈی جی ایم اوز اوردیگرافسرہاٹ لائن پررابطہ رکھیں گے۔ خواجہ آصف نے کہا کہ اسٹیک ہولڈرز کی اکثریت مذاکرات پرمتفق ہے، ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں افغان مفاہمتی عمل دوبارہ شروع کرنے پر اتفاق ہوا۔ ہم فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے میں اپنا کردار ادا کررہے ہیں۔ طالبان کی اکثریت بھی مذاکراتی عمل میں شامل ہونا چاہتی ہے، ان پر مفاہمتی عمل کے لئے دباو¿ بھی ڈالیں گے، پہلے دور میں حقانی گروپ کو بھی مذاکرات کی میز پر لانے کا کہا گیا ہے۔ مذکراتی عمل کی بحالی کے لئے 16جنوری کو پہلا اجلاس اسلام آباد میں ہوگا۔ جس میں پاکستان، افغانستان، امریکا اور چین شریک ہوں گے۔وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ افغانستان اور طالبان کے درمیان اب تک مذاکرات کے دو مرحلے ہوئے ہیں تاہم تعلقات میں غلط موڑ آنے کے بعد ان کے درمیان مفاہمتی عمل تعطل کا شکار ہوگیا۔ افغانستان کے صدر کی ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں شرکت کے موقع پر وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات اور ان کی پیرس میں وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کے دوران افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکراتی عمل دوبارہ شروع کرنے اور تعلقات میں تعطل دور کرنے پر اتفاق کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے دورہ افغانستان کا بنیادی ایجنڈا افغانستان میں قیام امن کے لئے افغان قیادت میں اور افغانوں کے ذریعے مذاکرات کا انعقاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مفاہمتی عمل میں افغان حکومت کا کردار سب سے اہم ہے‘ پاکستان‘ چین اور امریکہ کا کردار سہولت کار معاون کا ہے۔ پاکستانی حکومت کا کردار طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانا ہے۔ وزیردفاع نے کہ اکہ مفاہمت کرنے والے طالبان سے پہلے بات چیت کی جائے گی۔ طالبان مفاہمتی عمل کیلئے مذاکرات پر تیار ہیں۔ گزشتہ مرحلوں میں ہمیں کہا گیا تھا کہ طالبان سے جب بھی مذاکرات ہوں تو حقانی گروپ کو بھی اس کا حصہ ہونا چاہیے۔ افغانستان کا موقف تھا کہ حقانی گروپ کی شمولیت کے بغیر مذاکرات بے معنی ہوں گے۔ طالبان کی اکثریت مفاہمت چاہتی ہے تاہم کچھ لوگ مفاہمت کی مخالفت کر رہے ہیں، ان کی وجہ سے مفاہمتی عمل روکا نہیں جاسکتا۔ انہوںنے کہا کہ افغانستان میں مفاہمت کی حمایت میں علماءسے فتوے لئے جائیں گے۔ اسلامی تعاون تنظیم کی سطح پر ان فتوﺅں کی توثیق کرائی جائے گی تاکہ مفاہمتی عمل پائیدار ہو۔ پاک افغان انٹیلی جنس ایجنسیوں کے درمیان انٹیلی جنس شیئرنگ میں اضافہ پر اتفاق کیا گیا۔ ادارہ جاتی سطح پر اس حوالے سے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ افغانستان کی جانب سے سرحد غیر محفوظ ہے۔ ہم بہتر روابط کے ذریعے سرحد کے آرپار واقعات کی روک تھام کے لئے بارڈر مینجمنٹ میں بہتری لا رہے ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ طے پایا کہ کور کمانڈرز‘ میجر جنرل سطح پر ڈی جی ایم اوز کے درمیان رابطہ ہوگا۔ رابطے منقطع ہونے سے صورتحال خراب ہوتی ہے۔ اس لئے رابطوں کو بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔ انٹیلی جنس اداروں کے حکام بھی رابطے رکھیں گے۔ یہ بھی طے پایا کہ پاکستان اور افغانستان کی سرزمین ایک دوسرے کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ چیف آف آرمی سٹاف کے دورے سے ایک شروعات ہوئی ہے‘ ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کا مقصد بھی افغانستان میں قیام امن تھا۔ ہمارے خیال میں آرمی چیف کا دورہ کامیاب تھا۔ اس طرح کے رابطے جاری رہیں گے تاکہ امن کے لئے جو عمل شروع ہوا ہے وہ جاری رہے۔ امن سب کی ضرورت ہے تاکہ جو مقاصد حاصل نہیں کئے جاسکے وہ امن سے حاصل کئے جاسکیں۔ دونوں اطراف کو اس سلسلے میں احساس اور ادراک ہے‘ ہماری سرحد کے ساتھ چار پانچ صوبوں میں بدخشاں تک داعش کا اثر تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ ہم ہمسایوں کے ساتھ امن سے رہنا چاہتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘


یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…

گریٹ گیم(چوتھا حصہ)

لیویونگ زنگ اور اس کا بھائی لیویونگ ہو چین کی…

گریٹ گیم(تیسرا حصہ)

ہم بائبل پڑھیں‘ قرآن مجید اور احادیث کا مطالعہ…