برلن (نیوزڈیسک)ایران میں یرغمال بنائے جانے والے 53 امریکیوں کو بالآخر ہرجانہ ملنے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ ان افراد کو 1979ء کے اسلامی انقلاب کے وقت تہران کے امریکی سفارت خانے میں شدت پسند طلبہ کے ایک گروپ نے یرغمال بنا لیا تھا۔ان امریکیوں کو 444 روز تک یرغمال رکھا گیا تھا۔ امریکی قانون سازوں کی طرف سے ایک نئے قانون میں ایسے افراد کو ہرجانہ ادا کرنے کی شق شامل کی گئی ہے۔ اس پیشرفت کے بعد یرغمال بنائے جانے والے ہر فرد کو 10 ہزار ڈالر فی دن کے حساب سے مجموعی طور پر 4.4 ملین ڈالرز ہرجانہ ادا کیا جائے گا۔1979میں ایران میں آنے والے اسلامی انقلاب کے وقت ان امریکیوں کو یرغمال بنائے جانے سے نہ صرف امریکا بھر میں عوامی سطح پر پریشانی رہی بلکہ واشنگٹن اور تہران کے تعلقات میں تناو¿ پیدا ہوا۔ ان افراد کو 1981ء میں ہونے والے ایک معاہدے کے بعد رہائی ملی تاہم اس معاہدے میں یہ بات بھی شامل تھی کہ وہ ایرانی حکومت سے یرغمال بنائے جانے پر زر تلافی طلب نہیں کریں گے۔ اسی باعث متاثرہ افراد کئی دہائیوں تک ہرجانے کی رقم وصول کرنے کے لیے کوششوں میں مصروف تھے۔رواں برس ایک امریکی جج نے فرانس کے سب سے بڑے بینک پیریباس پی این پی کو حکم دیا تھا کہ وہ امریکا کی جانب سے ایران پر لگائی گئی پابندیوں کی خلاف ورزی پر 8.9 بلین امریکی ڈالرز(تقریباایک ہزارپاکستانی ارب روپے ) کی رقم بطور جرمانہ ادا کرے۔ اب یہ رقم دستیاب ہے اور اسے دہشت گردی کے شکار بننے والے افراد کی امداد کے لیے استعمال کیا جانا ہے۔تقریبا تمام یرغمالیوں کی نمائندگی کرنے والے اٹارنی تھومس لینکفورڈ نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ یہ فنڈنگ دراصل ایسی کمپنیوں سے وصول ہونے والے جرمانوں سے ادا کی جائے گی جنہوں نے پابندیوں کے شکار ایران، شمالی کوریا اور شام جیسے ممالک کے ساتھ غیر قانونی کاروبار کیا۔امریکی صدر باراک اوباما نے اس قانون پر دستخط گزشتہ ہفتے کیے تھے اور اس قانون کے تحت 1983ء میں بیروت میں ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کے متاثرین کو بھی تلافی کی رقم ادا کی جائے گی۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکی ارکان پارلیمان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس قانون سے 1998ء میں تنزانیہ اور کینیا میں بم دھماکوں کا نشانہ بننے والی امریکی سفارت خانوں کے متاثرین کو بھی فائدہ پہنچے گا۔ایران میں یرغمال بنائے جانے والے افراد کی مجموعی تعداد 66 تھی۔ ان میں سے 13 افراد کو نومبر 1979ء میں رہا کر دیا گیا تھا جبکہ ایک مزید یرغمالی کو جولائی 1980ء میں اس کی صحت کے مسائل کی وجہ سے رہا کیا گیا۔ جبکہ بقیہ 52 امریکیوں کو 444 دن تک یرغمال رکھا گیا تھا۔
امریکہ نے ایران کے 1000ارب روپے دبارکھے ہیں , اب ان پیسوں کاکیاکیاجائے گا؟ ایک دلچسپ انکشاف
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)
-
ہونڈا CD 70 خریدنے والوں کے لیے اہم خبر
-
حج 2027 پیکیجز، پہلی قسط اور اخراجات کی تفصیلات جاری
-
اسکول ہفتے میں 6 روز کھلیں گے ،نوٹیفکیشن جاری
-
متحدہ عرب امارات نے پاکستانیوں کو ویزے جاری کرنا شروع کردیے
-
اوم پوری کی اہلیہ نے شوہر کے ملازمہ سے تعلقات کا انکشاف کردیا
-
پی ٹی آئی رہنما کے قتل میں بڑی پیشرفت، قتل کے ماسٹر مائنڈ کا نام اور وجہ سامنے آگئی
-
واٹس ایپ میں ایک نئی دلچسپ اپ ڈیٹ کر دی گئی
-
سعودی عرب جانے والے پاکستانیوں کے لیے بڑا اعلان
-
پوتے نے بیگ میں توپ کے گولے رکھ دئیے، دادی ایئرپورٹ پر پکڑی گئیں
-
غلط ای چالان منسوخ کرانے کا آن لائن طریقہ پنجاب حکومت نے بتا دیا
-
اگر مزید جہازنہیں بھیجاگیا تو اسرائیل کے بجائے امریکی دفاع کے انتخاب پر مجبور ہوں گے، امریکی جنرل
-
پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کردی گئی
-
پی ٹی آئی رہنما عبداللہ طاہر کے قتل میں ملوث ملزم کوگی بٹ کا مبینہ وائس نوٹ سامنے آگیا



















































