ہفتہ‬‮ ، 16 مئی‬‮‬‮ 2026 

امریکہ نے ایران کے 1000ارب روپے دبارکھے ہیں , اب ان پیسوں کاکیاکیاجائے گا؟ ایک دلچسپ انکشاف

datetime 25  دسمبر‬‮  2015 |

برلن (نیوزڈیسک)ایران میں یرغمال بنائے جانے والے 53 امریکیوں کو بالآخر ہرجانہ ملنے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ ان افراد کو 1979ء کے اسلامی انقلاب کے وقت تہران کے امریکی سفارت خانے میں شدت پسند طلبہ کے ایک گروپ نے یرغمال بنا لیا تھا۔ان امریکیوں کو 444 روز تک یرغمال رکھا گیا تھا۔ امریکی قانون سازوں کی طرف سے ایک نئے قانون میں ایسے افراد کو ہرجانہ ادا کرنے کی شق شامل کی گئی ہے۔ اس پیشرفت کے بعد یرغمال بنائے جانے والے ہر فرد کو 10 ہزار ڈالر فی دن کے حساب سے مجموعی طور پر 4.4 ملین ڈالرز ہرجانہ ادا کیا جائے گا۔1979میں ایران میں آنے والے اسلامی انقلاب کے وقت ان امریکیوں کو یرغمال بنائے جانے سے نہ صرف امریکا بھر میں عوامی سطح پر پریشانی رہی بلکہ واشنگٹن اور تہران کے تعلقات میں تناو¿ پیدا ہوا۔ ان افراد کو 1981ء میں ہونے والے ایک معاہدے کے بعد رہائی ملی تاہم اس معاہدے میں یہ بات بھی شامل تھی کہ وہ ایرانی حکومت سے یرغمال بنائے جانے پر زر تلافی طلب نہیں کریں گے۔ اسی باعث متاثرہ افراد کئی دہائیوں تک ہرجانے کی رقم وصول کرنے کے لیے کوششوں میں مصروف تھے۔رواں برس ایک امریکی جج نے فرانس کے سب سے بڑے بینک پیریباس پی این پی کو حکم دیا تھا کہ وہ امریکا کی جانب سے ایران پر لگائی گئی پابندیوں کی خلاف ورزی پر 8.9 بلین امریکی ڈالرز(تقریباایک ہزارپاکستانی ارب روپے ) کی رقم بطور جرمانہ ادا کرے۔ اب یہ رقم دستیاب ہے اور اسے دہشت گردی کے شکار بننے والے افراد کی امداد کے لیے استعمال کیا جانا ہے۔تقریبا تمام یرغمالیوں کی نمائندگی کرنے والے اٹارنی تھومس لینکفورڈ نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ یہ فنڈنگ دراصل ایسی کمپنیوں سے وصول ہونے والے جرمانوں سے ادا کی جائے گی جنہوں نے پابندیوں کے شکار ایران، شمالی کوریا اور شام جیسے ممالک کے ساتھ غیر قانونی کاروبار کیا۔امریکی صدر باراک اوباما نے اس قانون پر دستخط گزشتہ ہفتے کیے تھے اور اس قانون کے تحت 1983ء میں بیروت میں ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کے متاثرین کو بھی تلافی کی رقم ادا کی جائے گی۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکی ارکان پارلیمان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس قانون سے 1998ء میں تنزانیہ اور کینیا میں بم دھماکوں کا نشانہ بننے والی امریکی سفارت خانوں کے متاثرین کو بھی فائدہ پہنچے گا۔ایران میں یرغمال بنائے جانے والے افراد کی مجموعی تعداد 66 تھی۔ ان میں سے 13 افراد کو نومبر 1979ء میں رہا کر دیا گیا تھا جبکہ ایک مزید یرغمالی کو جولائی 1980ء میں اس کی صحت کے مسائل کی وجہ سے رہا کیا گیا۔ جبکہ بقیہ 52 امریکیوں کو 444 دن تک یرغمال رکھا گیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘


یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…

گریٹ گیم(چوتھا حصہ)

لیویونگ زنگ اور اس کا بھائی لیویونگ ہو چین کی…

گریٹ گیم(تیسرا حصہ)

ہم بائبل پڑھیں‘ قرآن مجید اور احادیث کا مطالعہ…