منگل‬‮ ، 04 اگست‬‮ 2026 

بھارت نے مجرموں کےلئے نیا قانون رائج کردیا

datetime 23  دسمبر‬‮  2015 |

نئی دہلی(نیوز ڈیسک) بھارتی پارلیمنٹ کے ایوان بالا راجیہ سبھا نے بھاری اکثریت سے جوونائل جسٹس بل منظور کیا، بل کے مسودے میں کہا گیا ہے کہ جرم کی سنگینی کے مطابق کم عمر مجرموں کے خلاف مقدمہ چلایا جائے گا۔ پارلیمنٹ کا ایوان زیریں لوک سبھا بل کو پہلے ہی منظور کر چکا ہے۔ اب بل صدر کی منظوری کے لئے بھیجا جائے گا۔ دسمبر2012ء میں 23سالہ طالبہ کے ساتھ زیادتی کرنے والے سترہ سالہ لڑکے کی گزشتہ ہفتے رہائی کے بعد بھارت بھر میں ایک بار پھر قانون میں تبدیلی کے لئے شور اٹھا تھا۔بھارتی میڈیا کے مطابق راجیہ سبھا میں بل پیش کرتے ہوئے خواتین کی ترقی وزیر مینکا گاندھی نے کہا کہ بل میں ساری باتوں کا خیال رکھا گیا ہے یہ بل اب صدر کے پاس منظوری کے لیے بھیجا گیا، تاہم بحث کے دوران ایوان کے بہت سے ارکان نے اس کے خلاف اپنا موقف پیش کیا۔سی پی ایم، این سی پی اور ڈی ایم کے نے بل کوآڈٹ کمیٹی کے پاس بھیجنے کا مطالبہ کیا تھا تاہم ان کا مطالبہ تسلیم نہیں کیا گیا جس کے خلاف سی پی ایم نے ووٹنگ سے پہلے ایوان سے واک آؤٹ کیا۔سی پی ایم کے جنرل سیکریٹری سیتا رام یچوری نے کہا ’ہر پہلو کا تجزیہ کرتے ہوئے قانون بنانا ہوگا، سوال عمر کا نہیں جرم کا ہے۔‘بھارتی پارلیمان سے بل پاس ہونے کا خیر مقدم کرتے ہوئے نربھیا کے والدین نے کہا کہ ہمیں تسلی ہے کہ آنے والے دنوں میں بچیاں محفوظ ہوں گی۔ مرکزی پارلیمانی وزیر وینکیا نائیڈو نے تسلیم کیا کہ عوام کے دباؤ میں اسے راجیہ سبھا سے منظور کرایا گیا ہے۔کانگریس کی رینوکا چودھری نے بھی بل پاس ہونے کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ یہ بل کانگریس ہی پارلیمان میں لے کر آئی تھی۔تین سال قبل دہلی میں چلتی بس میں ہونے والے ریپ معاملے میں سزا پانے والے نابالغ مجرم کی رہائی کے خلاف مظاہرے بھی کیے گئے تھے اس سے پہلے راجیہ سبھا میں بل پیش کرتے ہوئے خواتین کی ترقی وزیر مینکا گاندھی نے کہا کہ بل میں ساری باتوں کا خیال رکھا گیا ہے۔بل کی وکالت کرتے ہوئے مینکا گاندھی نے کہا کوئی بھی جیوینائل براہ راست جیل میں نہیں بھیجا جائے گا، جیوینائل جسٹس بورڈ میں ماہر نفسیات ہوتے ہیں جو پہلے اس بات کا معائنہ کریں گے کہ کیا جرم بچپن میں ہوا یا اسے ایک بالغ ذہنیت کے ساتھ کیا گیا ہے۔‘بحث کے دوران ترنمول کانگریس کے رکن ڈیریک او برائن نے کہا ’اگر نربھیا کی جگہ میری بیٹی ہوتی تو میں اسے گولی مار دیتا، کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اس بل کے ساتھ لوگوں کے جذبات وابستہ ہیں تو یہ کچھ ترامیم کے ساتھ منظور کر لینا چاہیے۔اتر پردیش کی سماج وادی پارٹی کے ایم پی روپراش شرما نے احتجاج کیا کہ غریب طبقے کے بچوں کے لیے سخت قانون بنایا جا رہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…