منگل‬‮ ، 24 مارچ‬‮ 2026 

پاکستان کو افغان طالبان سے لڑانے کی تیاریاں

datetime 22  دسمبر‬‮  2015 |

واشنگٹن(این این آئی) پاکستان اور افغانستان کےلئے امریکا کے خصوصی مشیر رچرڈ اولسن نے کہا ہے کہ پاکستان نے یہ بات تسلیم کرلی ہے کہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو شکست دینے کےلئے انھیں افغان طالبان سے بھی لڑنا ہوگا ¾دہشتگردی دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا مرکز رہی ہے ¾ پاکستان حقانی نیٹ ورک اور طالبان کے خلاف کارروائی کرے ۔رچرڈ اولسن نے سینیٹ کی فارن ریلیشنز کمیٹی کو بتایا کہ ا±ن کے خیال میں پاکستانی حکومت اس بات کو تسلیم کر رہی ہے کہ پاکستانی طالبان اور افغان طالبان کے درمیان زیادہ خون خرابہ ہے اور یہ ان کی ایک خواہش بھی ہے کیوں کہ ماضی کی طرح یہ ا±ن کےلئے اتنا آسان نہیں ہے، چاہے وہ اچھے اوربرے طالبان میں تمیز کے اپنے اصول پر قائم ہی کیوں نہ رہیں۔رچرڈ اولسن نے کہا کہ دہشت گردی، دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا مرکز رہی ہے ¾ تمام مذاکرات میں امریکا نے پاکستان پر زور دیا کہ وہ حقانی نیٹ ورک اور طالبان کے خلاف کارروائی کرے۔انھوں نے کہا کہ پاکستان نے اپنے اندرونی دہشت گردی کے خطرات کے خلاف نہایت اہم اقدامات کیے ہیں اور امریکا، اسلام آباد پر اسی قسم کے اقدامات افغان طالبان کے خلاف اٹھانے پر بھی زور دیتا رہے گاانھوں نے بتایا کہ شمالی وزیرستان میں طالبان کے ٹھکانے بڑی حد تک تباہ کیے جاچکے ہیں اور یہ وہ چیز ہے جس کی ہمیں ایک طویل عرصے سے خواہش تھی تاہم اولسن نے کہا کہ پاکستان نے اپنی زیادہ تر توجہ ٹی ٹی پی پر مرکوز رکھی ¾ بجائے بیرونی دہشت گردوں کے جو ان (پاکستان) کے ہمسایہ ممالک افغانستان یا ہندوستان کے لیے خطرات پیدا کرنے کا باعث ہیں۔ایک سوال کے جواب میں اولسن نے بتایا کہ اسلامک اسٹیٹ (داعش) افغانستان کے دیگر صوبوں کے مقابلے میں ننگر ہار میں بڑی تعداد میں موجود ہے تاہم بظاہر انھیں عراق اور شام میں موجود اپنے گروپ رہنماو¿ں سے ہدایات موصول نہیں ہو رہیںانھوں نے کہا کہ ہمارے خیال میں اس طرح طالبان کے وہ دھڑے اور کمانڈرز بھی متاثر ہوئے ہیں جنھوں نے اپنی وفاداریاں تبدیل کی تھیں ۔انہوںنے کہاکہ اس سے خطرات میں کمی واقع نہیں ہوئی بلکہ اس سے صرف یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کے پاس مشرق وسطیٰ سے افغانستان پاکستان تک مواد اور جنگجوو¿ں کے بہاو¿ کے لیے کوئی براہ راست واسطہ نہیں ہے ۔ایک اور سوال کا جواب دیتے ہوئے رچرڈ اولسن نے تسلیم کیا کہ رواں برس افغانستان میں لڑائی میں اضافہ ہوا تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس کی وجہ صرف اور صرف 2003 میں طالبان کے بانی کمانڈر ملا عمر کی ہلاکت کا انکشاف تھا-رچرڈ اولسن کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں مختلف طالبان کمانڈروں کے درمیان بہت شدید مقابلہ تھاجس کی وجہ سے افغانستان میں تشدد میں مزید اضافہ ہوا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مذہب کی جنگ(آخری حصہ)


اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…