منگل‬‮ ، 04 اگست‬‮ 2026 

پاکستان کو افغان طالبان سے لڑانے کی تیاریاں

datetime 22  دسمبر‬‮  2015 |

واشنگٹن(این این آئی) پاکستان اور افغانستان کےلئے امریکا کے خصوصی مشیر رچرڈ اولسن نے کہا ہے کہ پاکستان نے یہ بات تسلیم کرلی ہے کہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو شکست دینے کےلئے انھیں افغان طالبان سے بھی لڑنا ہوگا ¾دہشتگردی دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا مرکز رہی ہے ¾ پاکستان حقانی نیٹ ورک اور طالبان کے خلاف کارروائی کرے ۔رچرڈ اولسن نے سینیٹ کی فارن ریلیشنز کمیٹی کو بتایا کہ ا±ن کے خیال میں پاکستانی حکومت اس بات کو تسلیم کر رہی ہے کہ پاکستانی طالبان اور افغان طالبان کے درمیان زیادہ خون خرابہ ہے اور یہ ان کی ایک خواہش بھی ہے کیوں کہ ماضی کی طرح یہ ا±ن کےلئے اتنا آسان نہیں ہے، چاہے وہ اچھے اوربرے طالبان میں تمیز کے اپنے اصول پر قائم ہی کیوں نہ رہیں۔رچرڈ اولسن نے کہا کہ دہشت گردی، دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا مرکز رہی ہے ¾ تمام مذاکرات میں امریکا نے پاکستان پر زور دیا کہ وہ حقانی نیٹ ورک اور طالبان کے خلاف کارروائی کرے۔انھوں نے کہا کہ پاکستان نے اپنے اندرونی دہشت گردی کے خطرات کے خلاف نہایت اہم اقدامات کیے ہیں اور امریکا، اسلام آباد پر اسی قسم کے اقدامات افغان طالبان کے خلاف اٹھانے پر بھی زور دیتا رہے گاانھوں نے بتایا کہ شمالی وزیرستان میں طالبان کے ٹھکانے بڑی حد تک تباہ کیے جاچکے ہیں اور یہ وہ چیز ہے جس کی ہمیں ایک طویل عرصے سے خواہش تھی تاہم اولسن نے کہا کہ پاکستان نے اپنی زیادہ تر توجہ ٹی ٹی پی پر مرکوز رکھی ¾ بجائے بیرونی دہشت گردوں کے جو ان (پاکستان) کے ہمسایہ ممالک افغانستان یا ہندوستان کے لیے خطرات پیدا کرنے کا باعث ہیں۔ایک سوال کے جواب میں اولسن نے بتایا کہ اسلامک اسٹیٹ (داعش) افغانستان کے دیگر صوبوں کے مقابلے میں ننگر ہار میں بڑی تعداد میں موجود ہے تاہم بظاہر انھیں عراق اور شام میں موجود اپنے گروپ رہنماو¿ں سے ہدایات موصول نہیں ہو رہیںانھوں نے کہا کہ ہمارے خیال میں اس طرح طالبان کے وہ دھڑے اور کمانڈرز بھی متاثر ہوئے ہیں جنھوں نے اپنی وفاداریاں تبدیل کی تھیں ۔انہوںنے کہاکہ اس سے خطرات میں کمی واقع نہیں ہوئی بلکہ اس سے صرف یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کے پاس مشرق وسطیٰ سے افغانستان پاکستان تک مواد اور جنگجوو¿ں کے بہاو¿ کے لیے کوئی براہ راست واسطہ نہیں ہے ۔ایک اور سوال کا جواب دیتے ہوئے رچرڈ اولسن نے تسلیم کیا کہ رواں برس افغانستان میں لڑائی میں اضافہ ہوا تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس کی وجہ صرف اور صرف 2003 میں طالبان کے بانی کمانڈر ملا عمر کی ہلاکت کا انکشاف تھا-رچرڈ اولسن کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں مختلف طالبان کمانڈروں کے درمیان بہت شدید مقابلہ تھاجس کی وجہ سے افغانستان میں تشدد میں مزید اضافہ ہوا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…