واشنگٹن(نیوز ڈیسک) امریکا میں صدارتی نامزدگی کیلیے ڈیموکریٹک امیدواروں نے اپنے حریف رپبلکن ڈونلڈ ٹرمپ کو ان کے متنازع بیانات پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ امریکی اقتصادیات اور شدت پسند گروپ داعش کو شکست دینے کو ترجیح تصور کرتے ہوئے اس پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔نیوہمپشائر میں ہونیوالے مباحثے میں سابق وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ داعش کیلیے بھرتیاں کرنے والے بہترین آدمی ہیں۔ ٹرمپ کے اسلام مخالف بیانات لوگوں کو داعش میں شمولیت پر اکسا رہے ہیں، ٹرمپ کے متنازع بیانات کو لوگوں کے کانوں تک پہنچنے سے روکنے کی ضرورت ہے۔ شام میں اتحادی کوششوں کی حمایت کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ خطے میں امریکی زمینی فوج بھیجنا ایک سٹرٹیجک غلطی ہو گی کیونکہ شدت پسند ایسا ہی دیکھنا چاہتے ہیں۔ سینیٹر برنی سینڈرز نے کہا کہ امریکا شام میں ایک ہی وقت میں کامیابی سے داعش اور صدر بشارالاسد سے مقابلہ نہیں کر سکتا۔ اس وقت امریکا کی پہلی ترجیح داعش ہونی چاہیے۔ برنی سینڈرز نے کہا کہ امریکا کو دنیا کی پولیس نہیں سمجھا جانا چاہیے اور داعش کیخلاف جنگ میں روس سے اتحاد اور مسلم ممالک سے فوجیوں کو شامل کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ سعودی عرب کو کہتے کہ وہ یمن میں لڑائی کی بجائے داعش پر توجہ دے اور قطر سے یہ کہتے ہیں کہ وہ اربوں ڈالر فٹبال کے عالمی کپ پر صرف کرنے کی بجائے اس دہشت گردی کے خلاف وسائل فراہم کرے جو اس کے دروازے تک پہنچ چکی ہے۔
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
روانگی سے قبل امریکی عملے نے چینی حکام کی دی گئی ہر چیز وہیں پھینک دی
-
کوکین ڈیلر انمول پنکی کے سنسنی خیز انکشافات، شوبز شخصیات اور سیاستدانوں کے نام بتادیے
-
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کردی
-
تبو نے بالی ووڈ کی خوفناک حقیقت بے نقاب کردی
-
بڑا کریک ڈاؤن ! 10غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز کو سیل کردیا گیا
-
ملک کے مختلف علاقوں میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی
-
کاروباری اوقات میں نرمی کا اعلان
-
عالیہ بھٹ کو کانز فلم فیسٹیول میں شرمندگی کا سامنا
-
فرانسیسی صدر میکرون کو اہلیہ نے تھپڑ کیوں مارا وجہ سامنے آگئی
-
حکومت کا گاڑیوں کی خریداری آسان بنانے کا فیصلہ
-
سونے کی قیمت میں حیران کن کمی
-
بھارت اور یو اے ای کے بڑے معاہدے سامنے آگئے
-
دبئی کی بجٹ ائیرلائن نے پاکستان کے 3 بڑے شہروں کیلئے پروازیں معطل کر دیں
-
چین میں داخلے پر پابندی کے باوجود امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو بیجنگ کیسے پہنچے؟



















































