اسلام آباد (نیوزڈیسک)ترکی کے وزیر اعظم احمد داﺅد اوغلو نے کہا ہے کہ وہ ملک کے جنوب مشرقی شہروں میں کرد جنگجوﺅں کو بد نظمی پیدا کرنے نہیں دیں گے۔ باغیوں کے خلاف شروع ہونے والے بڑے فوجی آپریشن میں ترکی کا کہنا ہے کہ کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) کے 70 مشتبہ اہلکار اور دو فوجی مارے گئے ہیں۔یاد رہے کہ جولائی میں جنگ بندی کے معاہدے اور تنازع کو ختم کرنے کے لیے ہونے والے مذاکرات کو ختم کر دیا گیا تھا۔ترک وزیر اعظم داو¿د اوغلو کا کہنا تھا کہ حکومت پی کے کے اور ان کے حمایتیوں کی جانب سے اس تنازع کو طول دینے کی کسی بھی کوشش کی مخالفت کرے گی۔ان کا کہنا تھا کہ اگر آپ کی جدوجہد شہروں میں بدنظمی پیدا کرنا ہے تو ہم اس کی اجازت نہیں دیں گے اور اگر ان کی جد وجہد ترکی سے الگ ہونے کی ہے تو ہم کبھی اجازت نہیں دیں گے۔واضح رہے کہ ترکی کے جنوب مشرقی شہر دیار باقر میں نومبر میں پولیس اور نامعلوم مسلح افراد کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں کرد نواز وکیل گولی لگنے سے ہلاک ہو گئے تھے۔ اس واقع میں دو پولیس اہلکار بھی ہلاک ہوئے تھے ، جس کے بعد سے شہر کے بعض حصوں میں کرفیو نافذ کر دیا گیا تھا۔ 1984 میں پی کے کے کی جانب سے مسلح مہم کے آغاز ہونے سے اب تک تقریباً40 ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
مشرقی شہروں میں کرد جنگجوﺅں کو بد نظمی پیدا کرنے نہیں دیں گے،ترک وزیراعظم
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
روانگی سے قبل امریکی عملے نے چینی حکام کی دی گئی ہر چیز وہیں پھینک دی
-
کوکین ڈیلر انمول پنکی کے سنسنی خیز انکشافات، شوبز شخصیات اور سیاستدانوں کے نام بتادیے
-
تبو نے بالی ووڈ کی خوفناک حقیقت بے نقاب کردی
-
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کردی
-
بڑا کریک ڈاؤن ! 10غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز کو سیل کردیا گیا
-
ملک کے مختلف علاقوں میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی
-
کاروباری اوقات میں نرمی کا اعلان
-
عالیہ بھٹ کو کانز فلم فیسٹیول میں شرمندگی کا سامنا
-
فرانسیسی صدر میکرون کو اہلیہ نے تھپڑ کیوں مارا وجہ سامنے آگئی
-
حکومت کا گاڑیوں کی خریداری آسان بنانے کا فیصلہ
-
سونے کی قیمت میں حیران کن کمی
-
بھارت اور یو اے ای کے بڑے معاہدے سامنے آگئے
-
دبئی کی بجٹ ائیرلائن نے پاکستان کے 3 بڑے شہروں کیلئے پروازیں معطل کر دیں
-
چین میں داخلے پر پابندی کے باوجود امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو بیجنگ کیسے پہنچے؟



















































