جمعہ‬‮ ، 15 مئی‬‮‬‮ 2026 

ترک صدر کادبنگ اعلان ،ایران نے بھی حمایت کردی ،امریکہ خوش

datetime 11  دسمبر‬‮  2015 |
Turkey's Prime Minister Tayyip Erdogan waves after addressing the media at the AK Party headquarters in Ankara July 30, 2008. Erdogan said on Wednesday a Constitutional Court ruling not to ban the governing AK Party removed uncertainty the European Union-applicant country was facing. In his first remarks since the court ruling, Erdogan said Turkey had suffered a serious loss of time and energy due to the case but that his party would continue to uphold the country's secular values. REUTERS/Stringer (TURKEY)

انقرہ ّ(نیوزڈیسک)ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے کہا ہے کہ عراق سے ترک فوجیوں کے انخلاءکا فی الحال کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا،غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق جمعہ کو صدر طیب ایردوآن نے ایک نیوزکانفرنس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ترک فوجی عراق میں کرد ملیشیا البیشمرکہ کی تربیت کے لیے موجود ہیں اور ان کا کوئی جنگی مقصد نہیں ہے۔انھوں نے اپنے پہلے ایک بیان کا اعادہ کیا ہے کہ ترک فوجیوں کو عراقی وزیراعظم حیدر العبادی کی دعوت پر بھیجا گیا تھا۔انھوں نے مزید کہا کہ شمالی عراق میں فوجیوں کی کمی وبیشی کا انحصار البیشمرکہ کے تربیت پانے والے فوجیوں کی تعداد پر ہے اور فی الحال وہاں سے ہمارے فوجیوں کے انخلاءکا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا،صدر ایردوآن نے کہا کہ 21 دسمبر کو ترکی ،امریکا اور شمالی عراق کے کرد حکام کے درمیان سہ فریقی اجلاس ہوگا لیکن انھوں نے بغداد حکومت کے ساتھ بات چیت کے حوالے سے کچھ نہیں کہا ہے۔واضح رہے کہ شمالی عراق میں ترک فوجیوں کی تعیناتی کے معاملے پر دونوں ملکوں کے درمیان تنازعہ پیدا ہوچکا ہے اور عراقی وزیراعظم حیدر العبادی کا موقف ہے کہ ان فوجیوں کو ان کی رضا مندی کے بغیر بھیجا گیا ہے۔انھوں نے ترکی سے ان فوجیوں کو واپس بلانے کا مطالبہ کیا تھا۔عراق کی وزارت خارجہ نے بغداد میں تعینات ترک سفیر کو طلب کرکے ان سے اس معاملے پر احتجاج کیا تھا۔وزارت خارجہ کا بھی کہنا تھا کہ ترک فوجی بغداد کے علم میں لائے بغیر عراقی علاقے میں داخل ہوئے تھے۔طیب ایردوان کے اس بیان کاایرانی وزیرخارجہ نے خیرمقدم کیاہے جبکہ امریکہ نے بھی کہاہے کہ داعش کے خلاف ترک فوج کی کارروائیاں قابل ستائش ہیں

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘


یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…

گریٹ گیم(چوتھا حصہ)

لیویونگ زنگ اور اس کا بھائی لیویونگ ہو چین کی…

گریٹ گیم(تیسرا حصہ)

ہم بائبل پڑھیں‘ قرآن مجید اور احادیث کا مطالعہ…