پیر‬‮ ، 03 اگست‬‮ 2026 

جو خواتین نقاب نہیں پہنتی انہیں ۔۔۔۔!داعش کے چنگل سے فرار خواتین کے انکشافات

datetime 23  ‬‮نومبر‬‮  2015 |
Mandatory Credit: Photo by REX USA (2642870a) Hayat Boumeddiene, far right Hayat Boumeddiene 'appears in Islamic State film' - 06 Feb 2015 The latest video released by French-speaking Islamic state (ISIS), fighters may be Hayat Boumeddiene, who is believed to have knowledge about the deadly January 9, 2015 attack on a Paris kosher grocery,The video, titled "Blow Up France 2," was released Tuesday and shows an ISIS fighter praising previous attackers in France and calling for new attacks. The video shows a woman standing next to the speaker, wearing camouflage clothing and holding a weapon. French authorities are investigating the possibility this woman could be Hayat Boumeddiene. Her husband, Amedy Coulibaly, killed four hostages January 9 at a kosher grocery in Paris, authorities said. He was killed by police in a rescue and the remaining hostages fled to safety.

نیویارک(نیوزڈیسک)داعش کے چ±نگل سے فرار ہو کر ترکی پہنچنے والی تین نوجوان خواتین نے اپنے اوپر مظالم اور داعش کی اندرونی کہانی بیان کردی ۔شام کا شمالی شہر رقاہ داعش کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔داعش اپنے سخت گیر رویے اور شدت آمیز سزا دینے کے حوالے سے بدنام ہے اور ان میں سے اکثر خبریں میڈیا کی زینت بنتی رہتی ہیں، تاہم ان کی خواتین پولیس کے حوالے سے اب تک لوگوں کو کم معلومات حاصل تھیں لیکن داعش کے چنگل سے نجات پا کر شام پہنچنے والی تین خواتین نے ان مظالم سے پردہ اٹھایا ہے ۔ان خواتین جنہوں نے اپنا نام تبدیل کرکے ایک امریکی اخبار کو انٹرویو دیا، ان کا کہنا تھا کہ داعش کی خنسہ بریگیڈ خواتین کو اپنی خود ساختہ شریعت کا پابند بنانے کا کام انجام دیتی ہے۔ جو خواتین نقاب نہیں پہنتی انہیں جرمانہ اور تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ انہی میں ایک خاتون دعا کے مطابق جب وہ داعش کے پولیس میں تھی تو خود اس نے چند ایسی خواتین کو سزا دی جنہیں وہ بچپن سے جانتی تھی، تاہم وہ ایسا کرنے پر مجبور تھی۔دعا نے بتایا کہ داعش میں ہی ڈیوٹی انجام دینے والی ایک اور لڑکی اوس سے اس کی ملاقات ہوئی جو خود بھی اس ماحول اور تشدد سے تنگ تھی اور پھر انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ بھاگ کر شام چلی جائیں۔اس مقصد کے لیے دونوں نے اپنا نام تبدیل کیا اور پھر کسی طرح سے بھاگ کر ترکی کی سرحد پر قائم شامی پناہ گزین کے کیمپ جا پہنچیں جہاں ان کی ملاقات عاصمہ نامی ایک اور خاتون سے ہوئی جس کا تعلق بھی کبھی داعش خواتین پولیس بریگیڈ سے تھا اور جو بھاگ کر کیمپ پہنچی تھی ۔امریکی اخبار سے بات کرتے ہوئے ان خواتین کا کہنا تھا کہ وہ اپنی وطن واپسی سے کے حوالے سے مستقبل سے مایوس نظر آتی ہے ، تاہم ان کی خواہش ہے کہ وہ اپنی تعلیم مکمل کرلیں۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک


میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…