پیر‬‮ ، 03 اگست‬‮ 2026 

مشرق وسطیٰ میں 40 سال بعد پہلے برطانوی فوجی اڈے پر کام شروع

datetime 2  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

بحرین (نیوز ڈیسک)برطانیہ نے مشرق وسطیٰ میں 1971 کے بعد پہلی مرتبہ مستقل فوجی اڈا قائم کرنے کا کام شروع کر دیا ہے۔برطانیہ کے سیکرٹری خارجہ فلپ ہیمنڈ اور بحری افسران نے بحرین کے مینا سلمان پورٹ پر ایچ ایم ایس جوفیر نامی اڈے کی تعمیر کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی۔خلیج میں اس مستقل اور بہتر فوجی اڈے کے قیام کا مقصد برطانیہ میں تعینات رائل نیوی کی مدد کرنا ہے۔فلپ ہیمنڈ کا کہنا تھا کہ اس اڈے کے قیام سے خطے میں بہتری کے لیے برطانیہ کے عزم کا اظہار ہوتا ہے۔فلپ ہیمنڈ کا کہنا تھا کہ ’بحرین میں برطانیہ کی رائل نیوی کی موجودگی اس بات کی ضمانت ہے کہ مستقبل میں نہر سوئز کے مشرق میں برطانیہ کی مستقل موجودگی کو یقینی بنایا جائے۔‘’اس نئی سہولت سے برطانیہ کے اپنے دوست ممالک کے ساتھ مل کر مشرق وسطیٰ اور اس سے آگے خطے میں استحکام قائم رکھنے میں مدد ملے گی۔‘
برطانیہ کو خطیمیں انسانی حقوق کی پامالی کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ لیکن فلپ ہیمنڈ کا کہنا ہے کہ برطانیہ خلیج فارس کی ریاستوں میں تبدیلی کے لیے مدد کررہا ہے۔انھوں نے کہا کہ ’بحرین کسی بھی طرح سے ایک بہترین ریاست نہیں ہے لیکن کم از کم اس کو معلوم ہے کہ اس کو اپنی ترقی کے لیے کیا اقدامات کرنے ہیں اور جن کے لئے وہ کوشش بھی کررہا ہے۔‘انھوں نے کہا کہ ریاست کے حکام ’اپنی پولیس فورس، عدالتی نظام، جیلوں میں اصلاحات کے لیے ہماری مدد حاصل کرنا چاہتے ہیں، تاکہ وہاں معیار زندگی کو بتدریج بہتر بنایا جائے اور ان کو توقعات سے قریب تر کیا جاسکے۔‘بی بی سی کے سکیورٹی امور کے نمائندہ فرینک گارڈنر کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں برطانیہ کی بڑھتی ہوئی مداخلت ’ متنازع صورت حال اختیار کرتی جارہی ہے۔‘انھوں مزید کہا ہے کہ ان کے مخالفین اور حامی ان اصلاحات میں ’ٹھوس پیش رفت دیکھنا چاہتے ہیں۔‘بحرین اس اڈے کی تعمیر کے لیے 23 ملین ڈالر ادا کرچکا ہے جبکہ باقی قیمت برطانیہ ادا کرے گا۔فلپ نے بحرین میں سلامتی سے متعلق اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’برطانیہ نے دہشت گردی کے پیچھے کارفرما انتہا پسند خیالات سے نمٹنے کی ضرورت کا ادراک بہت دیر سے کیا۔‘بحرین کے دارالحکومت مناما میں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے فلپ نے کہا کہ کہ اسلامی انتہا پسندوں سے مقابلہ ’ہمارے دور کا بہت بڑا چیلنج ہے۔‘



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک


میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…