عمان(نیوزڈیسک)اللہ کی جانب سے قوم لوط کی غلط کاریوں کی سزا کے بارے میں تمام آسمانی کتب بالخصوص قرآن کریم کے مبارک صفحات اس بدقسمت قوم کے تذکروں سے سے بھرے ہوئے ہیں مگریہ بات آج تک پردہ راز میں تھی کہ قوم لوط کا شہر کہاں تھا؟ امریکی محققین نے 10 سال کی مسلسل محنت شاقہ اور تحقیق کے بعد یہ دعویٰ کیا ہے کہ انہیں 3500 سال قبل اللہ کے عذاب کا شکار ہونےوالی قوم لوط کے برباد شہر کے کھنڈرات ملے ہیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق امریکی محققین نے اپنی ایک رپورٹ میں کہاکہ قوم لوط کی نافرمانیوں اور ان کے نتیجے میں اللہ کی طرف سے نازل ہونے والے عذاب کی تفصیلات قرآن پاک کی نو سورتوں میں مذکور ہیں۔ قرآن کریم کے علاوہ دیگر آسمانی کتب اور صحائف میں بھی قوم لوط کی تباہی کے تذکرے ملتے ہیں۔قوم لوط کے مرد اپنی جنسی خواہش کی تکمیل کے لیے عورتوں کے بجائے مردوں کی طرف غیر فطری میلان رکھتے تھے۔ اس پر جلیل القدرپیغمبر حضرت لوط علیہ السلام نے اپنی قوم کو منع کیا اور اللہ کی طرف سے سخت پکڑ کی وعید سنائی مگران کی قوم نے بہ شمول ان کی بیوی کے ان کی بات ماننے سے انکار کردیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس قوم پر پتھروں کی بارش کردی۔ عذاب کے وقت صرف حضرت لوط، ان کی اہلیہ کے سوا خاندان کے چند افراد اور کچھ رفقا ہی ز ندہ بچے، باقی سب اللہ کے عذاب کا شکار ہوئے۔
اردن میں ملعون قوم لوط کے برباد شہر کے کھنڈرات دریافت
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
کورونا بوسٹر ویکسین لگوانے والوں کیلئے اہم خبر ، سائنسدانوں کا بڑا انکشاف
-
بجلی کے یونٹ پر سیلز ٹیکس کا نیا طریقہ کار نافذ
-
پتھر کے زمانے سے اے آئی تک
-
پاکستان میں سونے کی فی تولہ قیمت میں حیران کن کمی
-
4 اگست کو سرکاری و نجی تعلیمی ادارے بند رکھنے کا اعلان
-
دانتوں کے کیڑے سے بچاؤ کا مؤثر اور آسان طریقہ سامنے آگیا
-
متحدہ عرب امارات نے محدود مدت کیلئے بڑی سہولت دے دی
-
55 سالہ شخص کی 2 کم عمر لڑکیوں سے جنسی زیادتی
-
ہاتھ ملانے پر پابندی، بھارتی ویمن کھلاڑی فاطمہ ثناء کے گلے لگ گئیں، ویڈیو وائرل
-
جامعات اور کالجز میں دو روزہ تعطیل کا فیصلہ
-
اگست سے اکتوبر تک ملک میں معمول سے کم بارشوں اور زیادہ گرمی کی پیشگوئی
-
رشتے کے تنازع پر مخالفین کی گھر میں فائرنگ، 3 بھائی جاں بحق, بچہ زخمی
-
گرج چمک کیساتھ بارش کا امکان
-
’دشمن بھی خاندانی ہونا چاہیے‘، ثاقب چدھڑ کا عروبہ مرزا کو کرارا جواب



















































