استنبول (نیوزڈیسک)ترک حکمران جماعت کو بدترین جھٹکا،ترکی کی حکمراں انصاف اور ترقی پارٹی (آق) کی حمایت میں جون میں منعقدہ عام انتخابات کے بعد کوئی اضافہ نہیں ہوا اور رائے عامہ کے ایک حالیہ جائزے کے مطابق اس کو 40.8 رائے دہندگان کی حمایت حاصل ہے لیکن وہ اس حمایت کے ساتھ یکم نومبر کو ہونے والے عام انتخابات کے بعد پارلیمان میں واحد اکثریتی جماعت کے طور پر نہیں ابھر سکے گی،غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق سروے کرنے والے ایک ادارے گیزچی نے تین اور چار اکتوبر کو 4864 افراد سے ان کی رائے پوچھی تھی اس سروے کے نتائج کے مطابق حزب اختلاف کی بڑی جماعت پیپلز پارٹی (سی ایچ پی) کو 27.6 فی صد کی حمایت حاصل ہے۔قوم پرست جماعت ایم ایچ پی کو 15.8فی صد اور کردنواز پیپلز ڈیمو کریٹک پارٹی (ایچ ڈی پی) کو 13.6 فی صد رائے دہندگان کی حمایت حاصل ہے۔ترک پارلیمان میں نشستوں کے حصول کے لیے انتخاب لڑنے والی کسی بھی جماعت کے لیے دس فی صد سے زیادہ ووٹ لینا ضروری ہیں۔اگرووٹروں کی رائے میں کوئی نمایاں تبدیلی رونما نہیں ہوتی ہے تو آق پارٹی پارلیمان کی ساڑھے پانچ سو میں سے 256 نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائے گی لیکن وہ حکومت بنانے کے لیے درکار سادہ اکثریت یعنی 276 نشستیں حاصل کرنے میں ناکام رہے گی۔
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
ڈرائیونگ لائسنس بنوانے والوں کی بڑی مشکل آسان ہوگئی
-
خلیجی ممالک پر حملے، شہزادہ فیصل نے بڑا اعلان کر دیا
-
امریکی ڈائریکٹر قومی انٹیلی جنس کا پاکستان کے میزائل پروگرام سے متعلق بیان مسترد
-
گیس تنصیبات پر حملہ، قطر کا بڑا سفارتی فیصلہ
-
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم رکھیں گے تو لوگ اپنا لائف اسٹائل تبدیل نہیں کریں گے، وزیر پیٹرولیم
-
پاکستان ایئرٹریفک کنٹرول نے 30مسافر طیاروں کو وار زون میں داخل ہونے سے بچا لیا
-
ملک میں شوال کا چاند نظر نہیں آیا، عید الفطر 21 مارچ کو ہوگی: مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اعلان
-
این ڈی ایم اے نے ملک کے مختلف علاقوں میں بارش، شمالی علاقہ جات میں برفباری کا الرٹ جاری کر دیا
-
زرمبادلہ کے ذخائر میں 1 کروڑ 26 لاکھ ڈالر کا اضافہ ریکارڈ
-
زائد کرایہ وصول کرنے والے ٹرانسپوٹرز کی شامت آگئی
-
اسرائیلی فوج کے کمیونیکیشن سسٹم میں خرابی پیدا ہوگئی، حساس معلومات لیک ہونے کا خدشہ















































