منگل‬‮ ، 04 اگست‬‮ 2026 

ایران داعش کے آسٹریلوی جنگجوﺅں کی تلاش میں مدد دے گا

datetime 20  اپریل‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)آسٹریلیا نے دولتِ اسلامیہ کے لیے لڑنے والے اپنے شہریوں کے بارے میں معلومات کے حصول کے لیے ایران سے ایک غیر رسمی معاہدہ کیا ہے۔اس معاہدے کے تحت ایران اور آسٹریلیا ایسے آسٹریلوی  جنگجوﺅں کی تلاش کے لیے خفیہ معلومات کا تبادلہ کریں گے جو عراق میں شدت پسند تنظیم کی جانب سے برسرِپیکار ہیں۔یہ فیصلہ آسٹریلیا کی وزیرِ خارجہ جولی بشپ کے دورہ ایران کے دوران ہوا ہے۔پیر کو اس دورے سے واپسی پر اس تعاون کے بارے میں بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ دولتِ اسلامیہ کو شکست دینے کے لیے عراقی حکومت کی مدد کرنا دونوں ممالک کا مشترکہ مقصد ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ایرانی حکام اس معاملے (آسٹریلوی شہریوں کی دولتِ اسلامیہ میں شمولیت) میں بہت دلچسپی رکھتے ہیں اور متعلقہ معلومات فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں۔انھوں نے کہا کہ ’ایرانی قیادت کے ساتھ بات چیت میں یہ اتفاق ہوا کہ ہم خفیہ معلومات کا تبادلہ کر سکتے ہیں خصوصاً ان غیر ملکی دہشت گردوں اور جنگجوﺅں کے بارے میں جن کا تعلق آسٹریلیا سے ہے اور جو عراق میں جاری لڑائی میں شامل ہیں۔‘خیال رہے کہ آسٹریلیا سے 100 سے زیادہ افراد دولتِ اسلامیہ کا ساتھ دینے کے لیے عراق اور شام جا چکے ہیں اور ملک کے اندر بھی اس شدت پسند تنظیم کے پیغام سے متاثرہ افراد کی جانب سے حملوں کا خطرہ موجود ہے۔آسٹریلیا میں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے پیغام سے متاثرہ افراد کی جانب سے حملوں کا خطرہ موجود ہےس نیچر کو ہی میلبرن میں پولیس نے دو ایسے نوجوانوں کو دہشت گردی کی کارروائی کی منصوبہ بندی کے الزام میں گرفتار کیا ہےجن پر دولتِ اسلامیہ کی تحریک سے متاثر ہونے کا شبہ ہے۔جولی بشپ کا کہنا تھا کہ ’ایران کے پاس وہ معلومات ہیں جو ہمیں درکار ہیں اور وہ اس بات پر تیار ہیں کہ وہ ان ہم سے ان معلومات کا تبادلہ کریں گے۔‘آسٹریلوی وزیرِ خارجہ نے یہ نہیں بتایا کہ ان معلومات کے بدلے میں آسٹریلیا ایران کو کیا دے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’میں خفیہ معلومات کے تبادلے کے بارے میں مزید معلومات نہیں دے سکتی۔‘تاہم انھوں نے کہا کہ ’یہ بات واضح ہے کہ داعش کو شکست دینے کے تناظر میں اگر ایران کے پاس ہماری دلچسپی کی معلومات ہوئیں تو وہ ہمیں دے گا اور اگر ہمارے پاس ایسی کوئی چیز ہوئی تو ہم انھیں دیں گے۔خیال رہے کہ آسٹریلیا اس عالمی اتحاد کا حصہ ہے جو عراق اور شام میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف کارروائیوں میں مصروف ہے۔ ایران اگرچہ اس اتحاد کا تو حصہ نہیں لیکن وہ عراق میں داعش سے برسرِپیکار شیعہ ملیشیا کو عسکری مشاورت فراہم کر رہا ہے۔دولتِ اسلامیہ کو شکست دینے کے لیے عراقی حکومت کی مدد کرنا دونوں ممالک کا مشترکہ مقصد ہے خیال رہے کہ آسٹریلیا دوسرا ملک ہے جس سے ایران نے داعش کے خلاف مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا ہے۔اتوار کو ایران اور افغانستان نے بھی دولت اسلامیہ کا مقابلہ کرنے کے لیے دو طرفہ سیکیورٹی تعاون بڑھانے کا اعلان کیا تھا۔دونوں ممالک اس شدت پسند تنظیم کے خلاف مشترکہ فوجی آپریشن کرنے کا ارادہ بھی رکھتے ہیں۔تہران میں افغان صدر اشرف غنی سے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا تھا کہ ایران اور افغانستان سرحدی علاقوں میں اطلاعات کا تبادلہ بڑھائیں گے اور اگر ضرورت پڑی تو فوجی کارروائی میں بھی تعاون ممکن ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…