منگل‬‮ ، 17 مارچ‬‮ 2026 

ایران داعش کے آسٹریلوی جنگجوﺅں کی تلاش میں مدد دے گا

datetime 20  اپریل‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)آسٹریلیا نے دولتِ اسلامیہ کے لیے لڑنے والے اپنے شہریوں کے بارے میں معلومات کے حصول کے لیے ایران سے ایک غیر رسمی معاہدہ کیا ہے۔اس معاہدے کے تحت ایران اور آسٹریلیا ایسے آسٹریلوی  جنگجوﺅں کی تلاش کے لیے خفیہ معلومات کا تبادلہ کریں گے جو عراق میں شدت پسند تنظیم کی جانب سے برسرِپیکار ہیں۔یہ فیصلہ آسٹریلیا کی وزیرِ خارجہ جولی بشپ کے دورہ ایران کے دوران ہوا ہے۔پیر کو اس دورے سے واپسی پر اس تعاون کے بارے میں بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ دولتِ اسلامیہ کو شکست دینے کے لیے عراقی حکومت کی مدد کرنا دونوں ممالک کا مشترکہ مقصد ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ایرانی حکام اس معاملے (آسٹریلوی شہریوں کی دولتِ اسلامیہ میں شمولیت) میں بہت دلچسپی رکھتے ہیں اور متعلقہ معلومات فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں۔انھوں نے کہا کہ ’ایرانی قیادت کے ساتھ بات چیت میں یہ اتفاق ہوا کہ ہم خفیہ معلومات کا تبادلہ کر سکتے ہیں خصوصاً ان غیر ملکی دہشت گردوں اور جنگجوﺅں کے بارے میں جن کا تعلق آسٹریلیا سے ہے اور جو عراق میں جاری لڑائی میں شامل ہیں۔‘خیال رہے کہ آسٹریلیا سے 100 سے زیادہ افراد دولتِ اسلامیہ کا ساتھ دینے کے لیے عراق اور شام جا چکے ہیں اور ملک کے اندر بھی اس شدت پسند تنظیم کے پیغام سے متاثرہ افراد کی جانب سے حملوں کا خطرہ موجود ہے۔آسٹریلیا میں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے پیغام سے متاثرہ افراد کی جانب سے حملوں کا خطرہ موجود ہےس نیچر کو ہی میلبرن میں پولیس نے دو ایسے نوجوانوں کو دہشت گردی کی کارروائی کی منصوبہ بندی کے الزام میں گرفتار کیا ہےجن پر دولتِ اسلامیہ کی تحریک سے متاثر ہونے کا شبہ ہے۔جولی بشپ کا کہنا تھا کہ ’ایران کے پاس وہ معلومات ہیں جو ہمیں درکار ہیں اور وہ اس بات پر تیار ہیں کہ وہ ان ہم سے ان معلومات کا تبادلہ کریں گے۔‘آسٹریلوی وزیرِ خارجہ نے یہ نہیں بتایا کہ ان معلومات کے بدلے میں آسٹریلیا ایران کو کیا دے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’میں خفیہ معلومات کے تبادلے کے بارے میں مزید معلومات نہیں دے سکتی۔‘تاہم انھوں نے کہا کہ ’یہ بات واضح ہے کہ داعش کو شکست دینے کے تناظر میں اگر ایران کے پاس ہماری دلچسپی کی معلومات ہوئیں تو وہ ہمیں دے گا اور اگر ہمارے پاس ایسی کوئی چیز ہوئی تو ہم انھیں دیں گے۔خیال رہے کہ آسٹریلیا اس عالمی اتحاد کا حصہ ہے جو عراق اور شام میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف کارروائیوں میں مصروف ہے۔ ایران اگرچہ اس اتحاد کا تو حصہ نہیں لیکن وہ عراق میں داعش سے برسرِپیکار شیعہ ملیشیا کو عسکری مشاورت فراہم کر رہا ہے۔دولتِ اسلامیہ کو شکست دینے کے لیے عراقی حکومت کی مدد کرنا دونوں ممالک کا مشترکہ مقصد ہے خیال رہے کہ آسٹریلیا دوسرا ملک ہے جس سے ایران نے داعش کے خلاف مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا ہے۔اتوار کو ایران اور افغانستان نے بھی دولت اسلامیہ کا مقابلہ کرنے کے لیے دو طرفہ سیکیورٹی تعاون بڑھانے کا اعلان کیا تھا۔دونوں ممالک اس شدت پسند تنظیم کے خلاف مشترکہ فوجی آپریشن کرنے کا ارادہ بھی رکھتے ہیں۔تہران میں افغان صدر اشرف غنی سے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا تھا کہ ایران اور افغانستان سرحدی علاقوں میں اطلاعات کا تبادلہ بڑھائیں گے اور اگر ضرورت پڑی تو فوجی کارروائی میں بھی تعاون ممکن ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)


یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہبی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہبی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہبی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…