تہران(نیوز ڈیسک) ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ سعودی عرب اور خلیجی ممالک کے فضائی حملوں سے یمن میں خون ریزی میں اضافہ ہوسکتا ہے جس سے پورا خطہ اس کی زد میں آجائے گا۔ سرکاری ٹی وی پر جاری بیان میں ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کا کہنا تھا کہ یمن پر بیرونی قوتوں کی جانب سے حملے اس کی علاقائی سلامتی کے خلاف ہیں اور جس کا نتیجہ سوائے یمن کے لوگوں کے زیادہ خون بہنے کے اور کچھ نہیں نکلے گا جب کہ فضائی حملے یمن میں خون خرابے میں اضافے کا باعث بنیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے ہمیشہ مغرب اور علاقائی قوتوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ یمن میں کسی قسم کے سازشوں سے باز رہیں اور اسے القاعدہ اور داعش کی طرح ڈیل نہ کریں۔ ایرانی وزارت خارجہ کی ترجمان نے یمن میں فضائی حملوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ فضائی حملے بین الاقوامی قوانین اور یمن کی قومی سلامتی کی خلاف ورزی ہے، اس طرح کے اقدام سے خطے میں دہشت گردی اور شدت پسندی میں اضافے اور خون ریزی کے علاوہ کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا اس لیے فوری طور پر حملوں کو روکا جائے۔ واضح رہے کہ سعودی عرب اور خلیجی ممالک کے طیاروں نے یمن کے دارلحکومت میں حوثی قبائل کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جس میں 100 کے قریب طیاروں نے حصہ لیا جب کہ اس حملے میں22 افراد ہلاک ہوئے
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘
-
کوکین ڈیلر انمول پنکی کے سنسنی خیز انکشافات، شوبز شخصیات اور سیاستدانوں کے نام بتادیے
-
درآمدی سولر پینل پر کسٹمز ڈیوٹی کیلیے نئی قیمتیں مقرر
-
شاطر ڈرگ ڈیلر پنکی، جس نے شناخت چھپانے کیلیے تیزاب میں انگلیاں جلائیں، زندگی سے متعلق اہم انکشافات
-
بڑا کریک ڈاؤن ! 10غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز کو سیل کردیا گیا
-
ملک کے مختلف علاقوں میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی
-
تبو نے بالی ووڈ کی خوفناک حقیقت بے نقاب کردی
-
ٹریفک حادثے کے بعد کار سوار نے نوجوان کو گولیاں مار دیں
-
نوجوانوں کو الیکٹرک بائیکس کی فراہمی، وزیر اعطم نے ہدایت جاری کر دی
-
عالیہ بھٹ کو کانز فلم فیسٹیول میں شرمندگی کا سامنا
-
فرانسیسی صدر میکرون کو اہلیہ نے تھپڑ کیوں مارا وجہ سامنے آگئی
-
انمول عرف پنکی کیخلاف قتل کے مقدمے سے متعلق تفصیلات منظر عام پر آگئیں
-
حکومت کا گاڑیوں کی خریداری آسان بنانے کا فیصلہ
-
چین میں داخلے پر پابندی کے باوجود امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو بیجنگ کیسے پہنچے؟



















































