جمعہ‬‮ ، 14 جون‬‮ 2024 

طالبان افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات پر تیار ہو گئے

datetime 22  فروری‬‮  2015
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

کابل۔۔۔۔افغانستان میں طالبان کے قریبی ذرائع نے بی بی سی پشتو کو بتایا ہے کہ طالبان کی اعلیٰ قیادت نے افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات کی منظوری دے دی ہے۔کچھ عرصہ قبل پاکستانی ’حکام‘ نے افغان طالبان سے رابطے کیے اور انھیں مشورہ دیا کہ وہ افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات کریں جس پر افغان طالبان نے کہا تھا کہ وہ اپنی اعلی قیادت سے اجازت لے کر جواب دیں گے۔طالبان ذرائع کا کہنا ہے کہ طالبان کی اعلی قیادت نے مذاکرات کی اجازت دے دی ہے۔تاہم افغان طالبان نے باضابطہ طور پر مذاکرات کے عمل کی تصدیق نہیں کی ہے۔ لیکن طالبان کی پالیسی رہی ہے کہ وہ اس وقت تک تصدیق نہیں کرتے جب تک کوئی ٹھوس چیز سامنے نہ آئے۔دوسری جانب قطر سے طالبان کا ایک وفد قطر میں افغان طالبان کے نمائندے قاری دین محمد کی قیادت میں پاکستان آنے والا ہے۔ اطلاعات کے مطابق قاری دین محمد کچھ دن قبل اسلام آباد آئے تھے اور مشاورت کے بعد واپس قطر چلے گئے۔
قاری دین محمد کے علاوہ افغانستان میں طالبان کے اہم رہنما عباس ستانکزئی بھی وفد میں شامل ہوں گے۔واضح رہے کہ افغان طالبان کے جس وفد نے گذشتہ سال چین کا دورہ کیا تھا اس کی قیادت بھی قاری دین محمد نے کی تھی۔قطر سے افغان طالبان کے وفد آنے کے حوالے سے جب ایک سابق طالبان رہنما سے پوچھا گیا کہ اس وفد کے آنے کا مقصد کیا ہے تو ان کا کہنا تھا ’اس وفد کے آنے کا مقصد پاکستانی آفیشلز کے ساتھ صلاح مشورے کرنا ہے۔ اور امکان ہے کہ قطر میں طالبان کا دفتر دوبارہ کھل جائے۔‘یاد رہے کہ جون 2013 میں قطر میں طالبان نے اپنا دفتر کھولا تھا جس کو ایک ماہ بعد ہی عارضی طور پر بند کر دیا گیا تھا۔ طالبان نے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں اس دفتر کے باہر اسلامی امارات افغانستان رکھا تھا اور اس پر اپنے دورِ حکومت کا پرچم لگایا تھا۔قطر میں افغان طالبان کے وفد کے پاکستان آنے کا مقصد پاکستانی آفیشلز کے ساتھ صلح اور مشورے کرنا ہے۔ اور امکان ہے کہ قطر میں طالبان کا دفتر دوبارہ کھل جائے۔اگرچہ یہ دفتر تو بند ہے تاہم افغان طالبان کے مذاکرات کار قطر ہی میں موجود ہیں۔ ہمارے نامہ نگار کے مطابق جب مذاکرات کے حوالے سے بات چل رہی ہے تو ممکن ہے کہ افغانستان سے مزید طالبان کے سینیئر رہنما قطر جائیں اور مذاکرات میں حصہ لیں۔
افغان طالبان میں یہ بحث بھی چل رہی ہے کہ مذاکراتی ٹیم کو اپ گریڈ کیا جائے اور مذاکراتی ٹیم کے سربراہ طیب آغا کی جگہ زیادہ سینیئر رہنما لایا جائے۔ تاہم طالبان ذرائع کا کہنا ہے کہ طیب آغا اب بھی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ ہیں۔
یاد رہے کہ گذشتہ دنوں پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کے دورہ افغانستان کے بعد سے افغان طالبان اور افغان حکومت کے درمیان مذاکرات کے حوالے سے تیزی آئی ہے۔جنرل راحیل شریف اور افغان صدر اشرف غنی کے درمیان ملاقات کے بعد سے افغان حکومت نے افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے مشاورت تیز کر دی ہے۔افغان صدر نے اس حوالے سے افغان امن کونسل کے اراکین سے ملاقات کرنے کے علاوہ سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں، قبائلی مشران اور سول سوسائٹی کے ممبران سے بھی صدارتی محل میں مشاورت کی ہے۔طالبان ذرائع کا کہنا ہے کہ طالبان میں مذاکرات میں پاکستان کے ممکنہ کردار کے حوالے سے بھی اختلافات ہیں کیونکہ پاکستان کے کردار کی مخالفت کرنے والے رہنماؤں کا کہناہے کہ ’اگر پاکستان کو مذاکرات میں زیادہ مداخلت کرنے دی گئی تو شاید یہ مذاکرات زیادہ آگے نہ بڑھ سکیں‘۔



کالم



شرطوں کی نذر ہوتے بچے


شاہ محمد کی عمر صرف گیارہ سال تھی‘ وہ کراچی کے…

یونیورسٹیوں کی کیا ضرروت ہے؟

پورڈو (Purdue) امریکی ریاست انڈیانا کا چھوٹا سا قصبہ…

کھوپڑیوں کے مینار

1750ء تک فرانس میں صنعت کاروں‘ تاجروں اور بیوپاریوں…

سنگ دِل محبوب

بابر اعوان ملک کے نام ور وکیل‘ سیاست دان اور…

ہم بھی

پہلے دن بجلی بند ہو گئی‘ نیشنل گرڈ ٹرپ کر گیا…

صرف ایک زبان سے

میرے پاس چند دن قبل جرمنی سے ایک صاحب تشریف لائے‘…

آل مجاہد کالونی

یہ آج سے چھ سال پرانی بات ہے‘ میرے ایک دوست کسی…

ٹینگ ٹانگ

مجھے چند دن قبل کسی دوست نے لاہور کے ایک پاگل…

ایک نئی طرز کا فراڈ

عرفان صاحب میرے پرانے دوست ہیں‘ یہ کراچی میں…

فرح گوگی بھی لے لیں

میں آپ کو ایک مثال دیتا ہوں‘ فرض کریں آپ ایک بڑے…

آئوٹ آف دی باکس

کان پور بھارتی ریاست اترپردیش کا بڑا نڈسٹریل…