کابل۔۔۔۔افغانستان میں طالبان کے قریبی ذرائع نے بی بی سی پشتو کو بتایا ہے کہ طالبان کی اعلیٰ قیادت نے افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات کی منظوری دے دی ہے۔کچھ عرصہ قبل پاکستانی ’حکام‘ نے افغان طالبان سے رابطے کیے اور انھیں مشورہ دیا کہ وہ افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات کریں جس پر افغان طالبان نے کہا تھا کہ وہ اپنی اعلی قیادت سے اجازت لے کر جواب دیں گے۔طالبان ذرائع کا کہنا ہے کہ طالبان کی اعلی قیادت نے مذاکرات کی اجازت دے دی ہے۔تاہم افغان طالبان نے باضابطہ طور پر مذاکرات کے عمل کی تصدیق نہیں کی ہے۔ لیکن طالبان کی پالیسی رہی ہے کہ وہ اس وقت تک تصدیق نہیں کرتے جب تک کوئی ٹھوس چیز سامنے نہ آئے۔دوسری جانب قطر سے طالبان کا ایک وفد قطر میں افغان طالبان کے نمائندے قاری دین محمد کی قیادت میں پاکستان آنے والا ہے۔ اطلاعات کے مطابق قاری دین محمد کچھ دن قبل اسلام آباد آئے تھے اور مشاورت کے بعد واپس قطر چلے گئے۔
قاری دین محمد کے علاوہ افغانستان میں طالبان کے اہم رہنما عباس ستانکزئی بھی وفد میں شامل ہوں گے۔واضح رہے کہ افغان طالبان کے جس وفد نے گذشتہ سال چین کا دورہ کیا تھا اس کی قیادت بھی قاری دین محمد نے کی تھی۔قطر سے افغان طالبان کے وفد آنے کے حوالے سے جب ایک سابق طالبان رہنما سے پوچھا گیا کہ اس وفد کے آنے کا مقصد کیا ہے تو ان کا کہنا تھا ’اس وفد کے آنے کا مقصد پاکستانی آفیشلز کے ساتھ صلاح مشورے کرنا ہے۔ اور امکان ہے کہ قطر میں طالبان کا دفتر دوبارہ کھل جائے۔‘یاد رہے کہ جون 2013 میں قطر میں طالبان نے اپنا دفتر کھولا تھا جس کو ایک ماہ بعد ہی عارضی طور پر بند کر دیا گیا تھا۔ طالبان نے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں اس دفتر کے باہر اسلامی امارات افغانستان رکھا تھا اور اس پر اپنے دورِ حکومت کا پرچم لگایا تھا۔قطر میں افغان طالبان کے وفد کے پاکستان آنے کا مقصد پاکستانی آفیشلز کے ساتھ صلح اور مشورے کرنا ہے۔ اور امکان ہے کہ قطر میں طالبان کا دفتر دوبارہ کھل جائے۔اگرچہ یہ دفتر تو بند ہے تاہم افغان طالبان کے مذاکرات کار قطر ہی میں موجود ہیں۔ ہمارے نامہ نگار کے مطابق جب مذاکرات کے حوالے سے بات چل رہی ہے تو ممکن ہے کہ افغانستان سے مزید طالبان کے سینیئر رہنما قطر جائیں اور مذاکرات میں حصہ لیں۔
افغان طالبان میں یہ بحث بھی چل رہی ہے کہ مذاکراتی ٹیم کو اپ گریڈ کیا جائے اور مذاکراتی ٹیم کے سربراہ طیب آغا کی جگہ زیادہ سینیئر رہنما لایا جائے۔ تاہم طالبان ذرائع کا کہنا ہے کہ طیب آغا اب بھی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ ہیں۔
یاد رہے کہ گذشتہ دنوں پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کے دورہ افغانستان کے بعد سے افغان طالبان اور افغان حکومت کے درمیان مذاکرات کے حوالے سے تیزی آئی ہے۔جنرل راحیل شریف اور افغان صدر اشرف غنی کے درمیان ملاقات کے بعد سے افغان حکومت نے افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے مشاورت تیز کر دی ہے۔افغان صدر نے اس حوالے سے افغان امن کونسل کے اراکین سے ملاقات کرنے کے علاوہ سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں، قبائلی مشران اور سول سوسائٹی کے ممبران سے بھی صدارتی محل میں مشاورت کی ہے۔طالبان ذرائع کا کہنا ہے کہ طالبان میں مذاکرات میں پاکستان کے ممکنہ کردار کے حوالے سے بھی اختلافات ہیں کیونکہ پاکستان کے کردار کی مخالفت کرنے والے رہنماؤں کا کہناہے کہ ’اگر پاکستان کو مذاکرات میں زیادہ مداخلت کرنے دی گئی تو شاید یہ مذاکرات زیادہ آگے نہ بڑھ سکیں‘۔
طالبان افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات پر تیار ہو گئے
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)
-
سعودی عرب میں عید کے چاند کے حوالے سے اہم اعلان
-
پاکستان کی معروف ماہرِ علمِ نجوم سامعہ خان نے ایک مرتبہ پھر عمران خان کے بارے بڑی پیشگوئی کر دی
-
وزیراعظم کا سرکاری ملازمین کے لیے بڑا اعلان
-
سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای ایران میں نہیں ہیں ، انہیں کس ملک میں کیوں اور کس حالت میں منتقل کیا گیا...
-
افغان طالبان پروپیگنڈے کا پردہ چاک، اسپتال کے نام پر عسکری تربیتی کیمپ کا انکشاف
-
وزیراعظم نے عید الفطر کی تعطیلات کی منظوری دے دی
-
بیوی کی رضا مندی نہ ہونے پر شوہر کے خلاف بد فعلی کا مقدمہ درج
-
سعودی عرب میں جسم فروشی میں ملوث 3 خواتین کو پاکستان پہنچنے پر گرفتار کر لیا گیا
-
راولپنڈی: والد کے قُل کی دعا کے دوران جھگڑا، بیٹا قتل
-
صدر کے ہوٹلوں پر چھاپے، نائٹ کلبز کے لیے اسمگل ہونے والی 32 خواتین بازیاب
-
سونا مزید سستا ہو گیا
-
اسٹیٹ بینک نے ملک بھر میں نئے کرنسی نوٹوں کی تقسیم کا عمل شروع کر دیا
-
معروف سٹیج اداکارہ دیدار کے شوہر کو گرفتار کر لیا گیا



















































