منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

شادی کیلئے دوست نے لڑکے کو زبردستی جنس تبدیل کرکے لڑکی بنا دیا

datetime 21  جون‬‮  2024 |

اترپردیش(این این آئی)بھارت میں شادی کے لیے دوست نے لڑکے کو زبردستی جنس تبدیل کرکے لڑکی بنا دیا۔بھارتی میڈیا کے مطابق اترپردیش کے علاقے مظفر نگر میں 3 جون کو مقامی میڈیکل کالج میں 20 سالہ مجاہد کو اسکے دوست نے دھوکہ دہی سے اسپتال لے جاکر آپریشن کے ذریعے لڑکے سے لڑکی بنا دیا، مبینہ ملزم اوم پرکاش نے یہ گھنائونا عمل 3 جون کو ڈاکٹروں کی ملی بھگت سے انجام دیا۔مجاہد نے الزام لگایا کہ اوم پرکاش مجھے گزشتہ دو سال سے دھمکیاں دے رہا اور ہراساں کر رہا تھا۔

اوم پرکاش نے مجاہد سے کہا تھا کہ اسے طبی مسئلہ ہے جس کے لیے اسپتال میں معائنے کی ضرورت ہے۔مجاہد نے بتایا کہ جب وہ اوم پرکاش کے ساتھ اسپتال گیا تو وہاں اسٹاف نے اْسے مبینہ طور پر بے ہوشی کی دوا دی اور جنس کی تبدیلی کا آپریشن کرکے اسکے خصیے نکال دیے۔مجاہد کا کہنا تھا کہ اگلی صبح جب میں ہوش میں آیا تو مجھے بتایا گیا کہ میں ایک لڑکے سے لڑکی بن چکا ہوں۔اوم پرکاش نے مجاہد سے کہا میں نے تمہیں مرد سے عورت بنا دیا اب تمہیں میرے ساتھ رہنا پڑے گا کیونکہ تمہارے خاندان یا برادری میں کوئی بھی تمہیں قبول نہیں کرے گا۔مجاہد کے مطابق اوم پرکاش نے کہا کہ میں نے وکیل تیار کر لیا ہے اور میں تمہارے ساتھ کورٹ میرج کروں گا۔ اوم پرکاش نے مجاہد کے والد کو گولی مارنے کی دھمکی بھی دی۔مجاہد نے بتایا کہ اوم پرکاش نے مجھے کہا کہ اب تمہاری زمین میری ہوگی پھر میں اسے بیچ کر لکھنؤ جاؤں گا۔

اس واقعے کے خلاف مقامی کسانوں نے میڈیکل کالج کے باہر شدید احتجاج کرتے ہوئے اوم پرکاش اور ملوث ڈاکٹروں کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ اسپتال انتظامیہ اور اس جرم میں ملوث تمام ملزمان کو کڑی سزا دی جائے۔ انہوں نے مجاہد کو کم از کم 2 کروڑ روپے معاوضہ دینے کا بھی مطالبہ کیا جس کی زندگی اس تکلیف دہ واقعے سے بری طرح متاثر ہوئی ہے۔مظفر نگر کے سینیئر پولیس افسر رامشیش یادو کا کہنا ہے کہ پولیس نے مبینہ ملزم اوم پرکاش کو گرفتار کرلیا ہے جبکہ اسپتال کے عملے سے بھی تفتیش کی جارہی ہے۔انہوں نے کہا متاثرہ خاندان اور مظاہرین کی طرف سے لگائے گئے تمام الزامات کی مکمل چھان بین کی جائے گی اور قصورواروں کے خلاف مناسب قانونی کارروائی کریں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…