بھارتیوں کا موبائل کی شعاعوں سے بچانے والی گوبر کی چِپ تیار کرنے کا دعوی ابتدائی قیمت بھارتیروپے کے درمیان رکھی کی گئی ہے، ماہرین بھی دنگ رہ گئے 

  جمعہ‬‮ 16 اکتوبر‬‮ 2020  |  17:55

نئی دہلی (این این آئی )بھارت میں جانوروں سے متعلق ایک ادارے نے دعوی کیا ہے کہ گائے کے گوبر سے بنائے جانے والی ایک چپ انسان کو موبائل فونز سے نکلنے والی خطرناک شعاعوں(ریڈی ایشن)سے بچا سکتی ہے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق بھارت میں گائے کےتحفظ اور گائے کے گوبر سے بنی ہوئی چیزوں کو فروغ دینے والے سرکاری ادارے کی جانب سے گائے کے گوبر سے ایک چپ تیار کی گئی ہے اور ادارے کا یہ دعوی ہے کہ چپ موبائل سے خارج ہونے والی شعاعوں سے تحفظ فراہم کرتی ہے۔گائے کے گوبر سے بنی اس


چپ کا نام گاستوا کوچ ہے جس کی قیمت بھارتی 50 سے 100 روپے کے درمیان رکھی کی گئی ہے۔بھارتی حکومت کا کہناتھا کہ ہم گائے کے گوبر سے بنی ان چپس کو بھارت میں مقبول کرنے کے ساتھ ساتھ امریکا سمیت دیگر باہر ممالک میں بھی فروخت کرنا چاہتے ہیں۔گائے کے تحفظ کے ادارے کے چئیرمین ولابھائی کٹھیریا کا کہنا تھا کہ گائے کے گوبر سے بنے ہوئے اس چپ کو آپ اپنے گھر میں یا موبائل فون کے کور پر لگا سکتے ہیں اور اس سے آپ خطرناک شعاعوں سے محفوظ رہ سکیں گے۔انہوں نے کہا کہ اگر آپ اس چپ کی تاثیر جاننا چاہتے ہیں تو آپ اس کی کسی بھی لیبارٹری سے جانچ کرواسکتے ہیں۔خیال رہے کہ اس سے قبل بھارت میں گائے کے پیشاب سے عالمی وبا کورونا وائرس کا علاج اور اس کے خاتمے کا دعوی کیا جا رہا تھا۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

مولانا روم کے تین دروازے

ہم تیسرے دروازے سے اندر داخل ہوئے‘ درویش اس کو باب گستاخاں کہتے تھے‘ مولانا کے کمپاﺅنڈ سے نکلنے کے تین اور داخلے کا ایک دروازہ تھا‘ باب عام داخلے کا دروازہ تھا‘ کوئی بھی شخص اس دروازے سے مولانا تک پہنچ سکتا تھا‘شاہ شمس تبریز بھی اسی باب عام سے اندر آئے تھے‘ مولانا صحن میں تالاب ....مزید پڑھئے‎

ہم تیسرے دروازے سے اندر داخل ہوئے‘ درویش اس کو باب گستاخاں کہتے تھے‘ مولانا کے کمپاﺅنڈ سے نکلنے کے تین اور داخلے کا ایک دروازہ تھا‘ باب عام داخلے کا دروازہ تھا‘ کوئی بھی شخص اس دروازے سے مولانا تک پہنچ سکتا تھا‘شاہ شمس تبریز بھی اسی باب عام سے اندر آئے تھے‘ مولانا صحن میں تالاب ....مزید پڑھئے‎