پیر‬‮ ، 31 اگست‬‮ 2026 

طیارے میں اضافی سامان کیلئے جعلی حمل کا سہارا لینے والی خاتون

datetime 31  اکتوبر‬‮  2019 |

کینبرا(این این آئی)کچھ عرصے پہلے ایک خاتون نے ہوائی سفر کے دوران اضافی سامان پر فیس سے بچنے کے لیے متعدد لباس زیب تن کرلیے تھے مگر اب ایک اور خاتون نے اس مسئلے کا بالکل ہی منفرد حل نکالنے کی کوشش کی۔آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والی سفری مصنف

ربیکا اینڈریوز نے اضافی سامان کو لے جانے کے لیے فرضی حمل کا سہارا لیا۔میڈیارپورٹس کے مطابق انسٹاگرام پوسٹ پر خاتون نے لکھا کہ حاملہ خواتین کو 60 ڈالرز کی بچت ہوتی ہے، جب آپ اضافی سامان پر فیس ادا کرنے نہیں چاہتے۔انہوں نے اس پوسٹ میں ویڈیو اپ لوڈ کرتے ہوئے وضاحت کی کہ یہ کام انہوں نے کیسے کیا اور بہت سارا سامان لباس کے اندر ایسے بھر لیا جس سے پیٹ حاملہ خواتین کی طرح نظر آنے لگا۔مگر یہ تمام تر کوششیں ناکام ثابت ہوئیں کیونکہ فضائی عملے نے ان کو پکڑ ہی لیا۔خاتون کے بقول ان سے بس یہ غلطی ہوئی کہ وہ طیارے پر سوار ہونے والی آخری مسافر تھیں اور یہی وجہ تھی کہ عملے میں شامل تمام افراد کی نظریں ان پر ہی مرکوز تھیں۔انہوں نے بتایا کہ جب میں فرضی حمل کا ڈرامہ کرتے ہوئے چلنے لگی تو میں نے ٹکٹ گرا دیا اور آواز نکالی، تو سب ایک بار پھر میری جانب دیکھنے لگے۔ان کے بقول جب میں ٹکٹ لینے کے لیے جھکی تو کمر پر لیپ ٹاپ نظر آگیا۔اس کے نتیجے میں ربیکا کو 60 ڈالرز ادا کرنا پڑے مگر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا ‘کیا میں شرمندہ ہوں؟ بالکل بھی نہیں۔ربیکا نے کہا کہ میرے خیال میں ایک خاتون کو حق ہے کہ وہ جو چاہے اپنے جسم کے ساتھ کرے چاہے تو لیپ ٹاپ وائر سے جعلی حمل کا ڈرامہ ہی کیوں نہ ہو۔اپنے ایک اور مضمون میں انہوں نے لکھا کہ ایسا پھر کرنا پڑا تو میں ہچکچائیں گی نہیں بس اس بار یہ یقینی بنائیں کی طیارے پر سب سے آخر میں سوار نہ ہوں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…