پیر‬‮ ، 31 اگست‬‮ 2026 

لال بیگوں کی محبت میں گرفتار نوجوان

datetime 31  جنوری‬‮  2019 |

ٹوکیو(مانیٹرنگ ڈیسک) لال بیگوں سے محبت کرنے والے جاپانی نوجوان کا کہنا ہے کہ اُسے کاکروچز سے بہت پیار ہے اور وہ ان کے بغیر نہیں رہ سکتا۔ اسٹاریٹکس ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق یوتا شینوہارا نامی 25 سالہ نوجوان لال بیگوں سے نہ صرف محبت کرتا ہے بلکہ وہ

ہر وقت انہیں اپنے ساتھ بھی رکھتا ہے اور جب وہ مرجاتے ہیں تو انہیں پکا کر کھا جاتا ہے۔ شینو کا کہنا تھا کہ ’ایک لال بیگ جس کا نام لیزا رکھا وہ میرے ساتھ ڈیڑھ سال تک رہا، میں اُس کے ساتھ بہت خوش رہتا اور بہت ساری باتیں کرتا تھا کیونکہ میرا یقین تھا کہ وہ میری باتوں کو غور سے سُنتی ہے‘۔ جاپانی نوجوان کا کہنا تھا کہ لیزا اپنے ڈنگ ہلا کر میری باتوں کا جواب بھی دیتی تھی، ایک روز اُس کی طبیعت خراب ہوئی اور میں نے اُسے دوائی کھلائی مگر وہ زندہ نہ رہ سکی۔ یوتا شینو ہارا کا کہنا تھا کہ لیزا وہ پہلا لال بیگ تھا جس سے میں نے دوستی کی اور مرنے کے بعد اُسے پکا کر کھایا، اب مجھے محسوس ہوتا ہے وہ میرے دل اور جسم کے ایک حصے میں زندہ ہے‘۔ نوجوان نے دعویٰ کیا کہ لیزا میری پہلی محبت تھی، اُس کے بچھڑنے کے بعد مجھے دیگر لال بیگوں سے بہت زیادہ لگاؤ اور محبت ہوگئی اب تک میری متعدد کاکروچوں سے دوستی ہوچکی ہے۔ یوتا کا مزید کہنا تھا کہ جس لال بیگ سے مجھے لگاؤ ہوجائے تو پھر اُسے میں ہر جگہ اپنے ساتھ لے کر جاتا ہوں، لوگوں کو شاید لال بیگوں سے کراہیت آتی ہے اس لیے وہ مجھ سے بہت دور رہتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…