پیر‬‮ ، 31 اگست‬‮ 2026 

‘اچھی بہو’ بننے کیلئے سرٹیفکیٹ کورس کا آغاز

datetime 29  ستمبر‬‮  2018 |

بھوپال (مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت میں لڑکیوں کے لیے تعلیمی نصاب میں ’آدرش بہو‘ نامی مضمون کا اضافہ کیا گیا ہے جس کا مقصد آج کل کی لڑکیوں کو ‘اچھی بہو’ بننے کی تعلیمات دینا ہے۔ ٹائمز آف انڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق یہ ایک سرٹیفکیٹ کورس ہے جسے بھارتی شہر بھوپال کی برکت اللہ یونیورسٹی نے متعارف کروایا ہے، جس میں لڑکیوں کو اس حوالے سے تعلیم دی جائے گی۔

شادی کے بعد انہیں اپنے سسرال میں کس طرح زندگی گزارنی چاہیے۔ یہ 3 ماہ کا مختصر کورس ہوگا، جس کا مقصد خواتین کو با اختیار بنانا ہے۔ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈی سی گپتا نے اس کورس کے مقاصد بیان کرتے ہوئے بتایا کہ ’اس سے لڑکیوں کو آگاہی ملے گی کہ انہیں شادی کے بعد کیسے ایک نئے ماحول کا عادی ہونا ہے‘۔ ڈی سی گپتا کا کہنا تھا کہ ‘یونیورسٹی پر معاشرے کی کچھ ذمہ داریاں لاگو ہوتی ہیں تاہم ہمیں صرف نصاب کی حد تک محدود نہیں ہونا چاہیے، ہمارا مقصد دلہن کو اس حوالے سے تیار کرنا ہے کہ انہیں شوہر کے اہل خانہ کے ساتھ کیسے پیش آنا چاہیے’۔ یہ کورس شعبہ نفسیات، عمرانیات اور ویمن اسٹڈیز ڈپارٹمنٹ میں بطور پائلٹ پروجیکٹ پڑھایا جائے گا۔ پروفیسر گپتا نے کورس کے عنوانات کے حوالے سے بتایا کہ ‘اس میں نفسیات اور عمرانیات کے عنوانات پڑھائے جائیں گے، جس کے تحت لڑکیاں سسرال والوں کے مزاج کو سمجھ سکیں گی، یہ ہماری ایک کوشش ہے جو معاشرے میں ایک مثبت تبدیلی لائے گی‘۔ انہوں نے بتایا کہ ‘کورس کے آغاز میں 30 طالبات کو داخلہ دیا جائے گا، جس کے لیے اعلیٰ تعلیم کا معیار ضروری ہوگا، لیکن یہ معیار کس حد تک ہوگا اس حوالے سے کام کیا جارہا ہے’۔ بھارتی میڈیا کے مطابق برکت اللہ یونیورسٹی ‘آدرش بہو’ کا کورس مکمل کروانے کے بعد لڑکیوں کے والدین سے ان کا ردعمل بھی معلوم کرے گی۔ دوسری جانب یونیورسٹی کے ایک ریٹائرڈ پروفیسر ایچ ایس یادو نے آدرش بہو کورس پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ ایک مزاحیہ تجویز ہے، برکت اللہ یونیورسٹی بھلے اس منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کی کوشش کرے لیکن اس سے بھی زیادہ ضرورت یہ ہے کہ یونیورسٹی کے امتحانات، کلاسز اور انفراسٹکچر پر توجہ دی بجائے’۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘جو بھی 30 طالبات اس کورس میں داخلہ لیتی ہیں، ان کے لیے یہ کورس وقت ضائع کرنے کے برابر ہے’۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…