پیر‬‮ ، 31 اگست‬‮ 2026 

جرمنی : 150بچوں کا والدین کیخلاف انوکھا احتجاج، فون سے نہیں ہم سے کھیلیں

datetime 14  ستمبر‬‮  2018 |

برلن(آئی این پی)جرمنی میں بچوں نے والدین کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فون پر کھیلنے کی بجائے ہم سے کھیلیں،احتجاجی ریلی میں 150بچوں نے شرکت کی، والدین کی بھرپور توجہ نہ ملنے سے بچے ذہنی دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ بین الاقوامی میڈیا کے مطابق بچوں کی اچھی تعلیم و تربیت کے لیے ان پر توجہ دینا انتہائی اہم ہوتا ہے لیکن اگر انہیں والدین کی جانب سے

بھرپور توجہ نہ ملے تو وہ مایوسی اور ذہنی دبا ؤمیں مبتلا ہوجاتے ہیں، ایسے میں جرمنی کے بچوں نے والدین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ موبائل فون استعمال کرنے کے بجائے ان پر توجہ دیں۔جرمنی کے شہر ہیمبرگ کے رہائشی 7 سالہ ایمل رسٹیگ (Emil Rustige) نے ان تمام والدین کے خلاف احتجاج کیا جو اپنے بچوں کو کم وقت دیتے ہیں اور ان کے ہاتھ میں ہر وقت موبائل فون ہوتا ہے۔ایمل نے اپنے والدین کی مدد سے اپنے علاقے سے ایک احتجاجی ریلی نکالی، جس میں شہر کے 150 بچوں نے شرکت کی اور ان کا ساتھ دیا۔انہوں نے اس احتجاج کے لیے باقاعدہ ایک نعرہ تیار کیا، جس میں مطالبہ تھا، Play with ME, not with your cell phones! یعنی کہ ‘میرے ساتھ کھیلیں، اپنے فون سے نہیں۔اس دوران ایمل نے لاڈ اسپیکر پر بچوں سے خطاب میں کہا کہ ‘وہ امید کرتے ہیں کہ اب ممی پاپا اپنا موبائل فون کم استعمال کریں گے اور ہمارے ساتھ وقت گزاریں گے’۔ایک امریکی تحقیق کے مطابق 13 سے 17 برس تک کے بچوں کا سوشل میڈیا پر کہنا ہے کہ ان کی خواہش ہے کہ ان کے والدین موبائل فون ڈیوائسز سے دور ہوجائیں۔یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے ایڈولیسینٹ ڈیولپمنٹ سینٹر کے ڈائریکٹر رون ڈہل کا کہنا ہے کہ یہ بچے والدین اور دوستوں کے سوشل میڈیا استعمال کرنے سے پریشان ہیں، یہ لوگ دیکھتے ہیں اور محسوس کرتے ہیں کہ ان کو اہمیت و توجہ نہیں دی جارہی جب کہ ممکنہ طور پر وہ خود بھی نہیں پہچان رہے کہ وہ بھی یہی کر رہے ہیں۔تحقیق کے مطابق جن بچوں کو والدین کی جانب سے توجہ نہیں ملتی وہ اپنے آپ کو تنہا اور غیر اہم محسوس کرتے ہیں اور دباؤ کا شکار ہوجاتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…