جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

جرمنی : 150بچوں کا والدین کیخلاف انوکھا احتجاج، فون سے نہیں ہم سے کھیلیں

datetime 14  ستمبر‬‮  2018
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

برلن(آئی این پی)جرمنی میں بچوں نے والدین کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فون پر کھیلنے کی بجائے ہم سے کھیلیں،احتجاجی ریلی میں 150بچوں نے شرکت کی، والدین کی بھرپور توجہ نہ ملنے سے بچے ذہنی دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ بین الاقوامی میڈیا کے مطابق بچوں کی اچھی تعلیم و تربیت کے لیے ان پر توجہ دینا انتہائی اہم ہوتا ہے لیکن اگر انہیں والدین کی جانب سے

بھرپور توجہ نہ ملے تو وہ مایوسی اور ذہنی دبا ؤمیں مبتلا ہوجاتے ہیں، ایسے میں جرمنی کے بچوں نے والدین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ موبائل فون استعمال کرنے کے بجائے ان پر توجہ دیں۔جرمنی کے شہر ہیمبرگ کے رہائشی 7 سالہ ایمل رسٹیگ (Emil Rustige) نے ان تمام والدین کے خلاف احتجاج کیا جو اپنے بچوں کو کم وقت دیتے ہیں اور ان کے ہاتھ میں ہر وقت موبائل فون ہوتا ہے۔ایمل نے اپنے والدین کی مدد سے اپنے علاقے سے ایک احتجاجی ریلی نکالی، جس میں شہر کے 150 بچوں نے شرکت کی اور ان کا ساتھ دیا۔انہوں نے اس احتجاج کے لیے باقاعدہ ایک نعرہ تیار کیا، جس میں مطالبہ تھا، Play with ME, not with your cell phones! یعنی کہ ‘میرے ساتھ کھیلیں، اپنے فون سے نہیں۔اس دوران ایمل نے لاڈ اسپیکر پر بچوں سے خطاب میں کہا کہ ‘وہ امید کرتے ہیں کہ اب ممی پاپا اپنا موبائل فون کم استعمال کریں گے اور ہمارے ساتھ وقت گزاریں گے’۔ایک امریکی تحقیق کے مطابق 13 سے 17 برس تک کے بچوں کا سوشل میڈیا پر کہنا ہے کہ ان کی خواہش ہے کہ ان کے والدین موبائل فون ڈیوائسز سے دور ہوجائیں۔یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے ایڈولیسینٹ ڈیولپمنٹ سینٹر کے ڈائریکٹر رون ڈہل کا کہنا ہے کہ یہ بچے والدین اور دوستوں کے سوشل میڈیا استعمال کرنے سے پریشان ہیں، یہ لوگ دیکھتے ہیں اور محسوس کرتے ہیں کہ ان کو اہمیت و توجہ نہیں دی جارہی جب کہ ممکنہ طور پر وہ خود بھی نہیں پہچان رہے کہ وہ بھی یہی کر رہے ہیں۔تحقیق کے مطابق جن بچوں کو والدین کی جانب سے توجہ نہیں ملتی وہ اپنے آپ کو تنہا اور غیر اہم محسوس کرتے ہیں اور دباؤ کا شکار ہوجاتے ہیں۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…