پیر‬‮ ، 31 اگست‬‮ 2026 

افغان شہریوں کے لبوں پر مسکراہٹ بکھیرنے والا چارلی چپلن

datetime 13  ستمبر‬‮  2018 |

کابل (مانیٹرنگ ڈیسک) چارلی چپلن کا کردار لوگوں کے لبوں پر مسکراہٹ بکھیرنے کے حوالے سے مشہور ہے، لیکن آج کل ایک افغان چارلی چپلن کی بھی دھوم ہے، جو جنگ زدہ ملک میں لوگوں میں خوشیاں تقسیم کرنے میں مصروف عمل ہے۔ افغانستان کے دارالحکومت کابل میں مقیم ایک اسٹینڈ اَپ کامیڈین کریم آسر چارلی چپلن کا روپ دھارے لوگوں کے چہروں پر ہنسی لانے کے لیے

جگہ جگہ پرفارم کرتے ہیں۔ ان کا حلیہ بالکل چارلی چپلن کی طرح ہوتا ہے، یعنی سائز سے بڑے جوتے، ڈھیلی ڈھالی پتلون، ہاتھ میں چھڑی اور کالی ٹوپی، جس کی وجہ سے انہیں ‘افغان چارلی چپلن’ کا لقب دیا گیا ہے۔ خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق کریم آسر کا کہنا ہے کہ ‘میرا مقصد بالکل سادہ ہے، میں چاہتا ہوں کہ افغان شہریوں کے چہروں پر بھی مسرت ہو’۔ کریم آسر کا کہنا تھا کہ ‘چارلی چپلن کے دیوانے پوری دنیا میں ہیں کیونکہ وہ لوگوں کی مدد کرتا ہے، اُن کے دکھوں کا مداوا کرتا ہے اور ان کی مسکراہٹ کا باعث بنتا ہے اور میں بھی یہی کرتا ہوں‘۔ آسر کی ابتدائی زندگی ایران میں گزری، جہاں وہ چارلی چپلن کے پروگرام دیکھا کرتے تھے جس سے وہ بے حد متاثر ہوئے۔ آسر کے اہل خانہ افغانستان میں دہشت گردی کا نشانہ بنے اور وہ گھر چھوڑ کر کچھ عرصے کے لیے روپوش بھی ہوگئے لیکن جب اہل خانہ گھر لوٹے تو انہوں نے باقاعدہ چارلی چپلن کی طرح میک اَپ کرکے روپ دھارا اور سب کو ہنسانے اور ڈر و خوف کو ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ لیکن اس کام میں ان کے والدین نے ان کی حوصلہ افزائی نہیں کی اور انہیں ان سب سے دور رہنے کی ہدایت کی۔ کریم آسر کو کابل کے مختلف علاقوں میں پرفارم کرنے کی وجہ سے متعدد بار عسکریت پسندوں کی جانب سے دھمکیاں ملیں اور کئی بار وہ نشانہ بھی بنائے گئے لیکن ان سب کے باوجود وہ اپنے مقصد کے لیے پر عزم رہے۔ ان کا کہنا ہے، ‘میں لوگوں کو موقع فراہم کرنا چاہتا ہوں کہ وہ اپنے مسائل بھول جائیں جیسے دہشت گردی، تنازعات اور سیکیورٹی کے مسائل’۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘خودکش حملوں اور شدت پسندی کی فضا نے افغان لوگوں کی خوشیاں دور کردی ہیں لیکن ان کی پرفارمنس سے ان کے چہرے کِھل سے جاتے ہیں جس کے لیے وہ ہمیشہ کوشاں رہیں گے’۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…